امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات کے جلد انعقاد کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں، حالانکہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پنچایتوں کی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ منتخب حکومت فی الحال پنچایتی انتخابات کرانے کے حق میں نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قریبی مستقبل میں انتخابات کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور اگر ایسا کوئی عمل ہوتا بھی ہے تو اس کے لیے رواں سال ستمبر سے دسمبر کے درمیان کا وقت ممکنہ سمجھا جا رہا ہے۔
این سی کی قیادت والی حکومت کے ایک وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انتخابات مناسب وقت پر کرائے جائیں گے، تاہم اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ غور نہیں ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پنچایتی راج نظام کے تیسرے درجے یعنی ضلع ترقیاتی کونسلز کے لیے براہ راست انتخابات کرانے سے بھی گریزاں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے کئی اراکین اسمبلی کا ماننا ہے کہ ڈی ڈی سیز، ایم ایل ایز کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرتی ہیں، اس لیے بالواسطہ انتخابات کا طریقہ بہتر سمجھا جا رہا ہے۔
ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ کابینہ کو ابھی تک جنک راج کوٹوال کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ پر حتمی فیصلہ کرنا ہے، جس میں پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کا تعین کیا گیا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر میں پنچایتوں کی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل جاری ہے، جو 15 مئی 2026 تک مکمل ہو جائے گا اور اس کے بعد حتمی فہرست شائع کی جائے گی۔
شہری بلدیاتی اداروں کی ووٹر فہرستیں اس وقت تک دستیاب نہیں ہوں گی جب تک کہ یونین ٹیریٹری میں خصوصی نظرثانی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے پاس اس وقت شہری بلدیاتی اداروں کی تازہ ووٹر فہرستیں موجود نہیں ہیں، کیونکہ آخری نظرثانی 2024 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کی تھی۔






