امت نیوز ڈیسک //
پلوامہ، 12 اپریل : پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اتوار کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی عمل ہے جس کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مذاکراتی دور میں کسی بڑی پیش رفت کی اطلاعات نہیں مل سکیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کئی برسوں سے تعطل کا شکار رہی ہے، اس لیے فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے حساس اور بڑے مذاکرات ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا، “میں اسے ناکامی نہیں سمجھتی۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جو برسوں سے جاری ہے،” اور مزید کہا کہ ایسے سفارتی عمل کا جائزہ لیتے وقت صبر و تحمل ضروری ہے۔
انہوں نے ایران کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے مذاکرات میں مضبوطی کا مظاہرہ کیا اور امریکی مطالبات کے سامنے مکمل طور پر جھکاؤ اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے، جس کی وجہ سے فوری معاہدہ ممکن نہیں ہو سکا۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ مذاکرات ایک ہی رات میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ حقیقت پسندانہ سوچ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل بات چیت سے مستقبل میں مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ بین الاقوامی حالات بھی ان مذاکرات کی رفتار اور سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی معاہدے کا نہ ہونا سفارت کاری کی ناکامی نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاملہ کس قدر پیچیدہ ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، جہاں جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت اہم امور پر اختلافات برقرار رہے، تاہم دونوں ممالک نے مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کو فوری فائدہ حاصل نہیں ہوا، لیکن مذاکرات کا جاری رہنا خود ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ آخرکار کسی مثبت نتیجے تک پہنچے گا۔






