امت نیوز ڈیسک //
امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ ابنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے، بشمول چین ، “مستقل طور پر کھول دیا جائے گا”، جو حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ چین اس اقدام سے “بہت خوش” ہے اور اس نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ رابطے کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ دونوں ممالک مل کر مزید تنازع سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم، ٹرمپ نے اس بات کی کوئی واضح تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آبنائے ہرمز کو کیسے کھولا جائے گا یا چین کے ساتھ اس مبینہ معاہدے کی شرائط کیا ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سینٹ کام نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اس ناکہ بندی کے باعث صرف 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی تقریباً تمام سمندری تجارت رک گئی، جس سے اس کی معیشت پر شدید اثر پڑا، کیونکہ ایران کی معیشت بڑی حد تک سمندری تجارت پر منحصر ہے۔
چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، نے امریکی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس سے حالیہ جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیجنگ نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے والا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوجی حکام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکی اقدامات جاری رہے تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، اور ایران خلیج فارس اور دیگر اہم سمندری راستوں میں تمام درآمدات و برآمدات روک سکتا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے، اور یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا اعلان کسی حقیقی سفارتی پیش رفت کی علامت ہے یا محض ایک سیاسی بیان ہے جس پر فوری عمل درآمد ممکن نہیں۔






