ویب ڈیسک//
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے عمل میں آ گئی ہے۔
اس طرح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی رک سکتی ہے اور ہفتوں کی تباہ کن جنگ کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کی کوششوں کو فروغ مل سکتا ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے طور پر کیا۔ آدھی رات کے فوراً بعد جنگ بندی کے آغاز کا جشن منانے کے لیے مقامی لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی جس سے پورے بیروت میں گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔
حکام کے اس انتباہ کے باوجود کہ جب تک جنگ بندی برقرار رہنے کا واضح یقین نہ ہو جائے اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش نہ کریں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کی طرف جانا شروع کر دیا ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لبنان میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔
باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے کہا کہ ’جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے۔‘
امید ہے حزب اللہ بہتر انداز میں پیش آئے گی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ حزب اللہ اس اہم وقت اچھے اور بہتر انداز میں پیش آئے گی۔
اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہو گا۔ مزید کوئی قتل و غارت نہیں۔ آخرکار امن قائم ہونا چاہیے۔





