امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 25 اپریل : جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر ونگ نے ہفتہ کے روز مرکزی جیل سرینگر میں ایک بڑے آپریشن کے دوران تلاشی مہم چلائی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک جاری ملی ٹنسی سے متعلق کیس کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ تلاشی خصوصی جج (این آئی اے ایکٹ) سرینگر کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ کی بنیاد پر لی گئی، جو ایف آئی آر نمبر 06/2023 (تھانہ سی آئی کشمیر) کے تحت درج ہے۔ اس مقدمے میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 153-A، 505، 121 اور 120-B کے علاوہ یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13 اور 39 شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ کارروائی “معتبر تکنیکی معلومات” کی بنیاد پر کی گئی، جن میں جیل کے اندر مشتبہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سی آئی کے کی 65 رکنی ٹیم نے جیل انتظامیہ کے تعاون سے مختلف بیرکوں میں تفصیلی تلاشی لی۔
تلاشی کے دوران حکام نے “قابلِ اعتراض مواد” پر مشتمل ڈیجیٹل مواصلاتی آلات برآمد کر کے ضبط کر لیے۔ سی آئی کے کے مطابق ان آلات کو فرانزک جانچ کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ ممکنہ روابط اور کسی بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
حکام نے اسے ایک “سنگین سیکیورٹی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی بھی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ آلات جیل کے اندر کیسے پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں ملوث کسی بھی اندرونی یا بیرونی سہولت کار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ جیل کے نظام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور اندرونی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔





