امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں سالانہ وائٹ ہاؤس نمائندہ عشائیہ کے موقع پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تاہم امریکی صدر ٹرمپ ، خاتونِ اول ملانیہ ٹرمپ اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔
واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے باہر پیش آیا جہاں عشائیہ منعقد ہو رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک گولیوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
امریکی خفیہ سروس کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے داخلی سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔ ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی، جسے اہلکاروں نے موقع پر ہی قابو کر لیا۔ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ اس کے قبضے سے متعدد ہتھیار برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک خفیہ سروس اہلکار کو گولی لگی، تاہم وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا اور اس کی حالت بہتر ہے۔ انہوں نے حملہ آور کو “انتہائی خطرناک اور بیمار ذہنیت کا حامل شخص” قرار دیا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا ہے کہ ملزم کے پس منظر کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور عوام سے بھی معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ شخص کے طور پر ہوئی ہے جو کیلیفورنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ واقعے کے دوران ہال کے اندر موجود افراد نے گولیاں چلنے پر فوراً زمین پر لیٹ کر اپنی جانیں بچائیں جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو ایسے واقعات کے بعد مزید اتحاد اور پرامن طریقے سے اختلافات حل کرنے کی ضرورت ہے۔




