امت نیوز ڈیسک //
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اسلام آباد میں صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جہاں ایک جانب امریکی حکام نے مذاکراتی پیشرفت اور وفد کی آمد کی تصدیق کی ہے، وہیں ایران نے کسی بھی براہِ راست ملاقات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ اس متضاد مؤقف نے سفارتی حلقوں میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
پاکستان کے دورے پر گئے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا بیان میں بتایا کہ وہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
ترجمان کے مطابق اس دورے میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں، خطے کی سیکیورٹی صورتحال، اور امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران امریکہ کی جانب سے کیے گئے “جارحانہ اقدامات” کے خاتمے کو اہم سمجھتا ہے، تاہم کسی براہِ راست مذاکرات کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں۔
اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ عباس عراقچی کا دورہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود ہوگا اور اس میں نہ تو جوہری معاملہ زیرِ بحث آئے گا اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت ہوگی، کیونکہ جوہری پروگرام ایران کی “ریڈ لائن” ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وفد ہفتے کی صبح روانہ ہوگا اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ نائب صدر جے ڈی وینس اس دورے میں شامل نہیں ہوں گے، تاہم وہ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو مسلسل اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پاکستان آ سکتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے “مثبت اشارے” ملے ہیں اور وہ براہِ راست بات چیت کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد پاکستان میں قیام کے بعد عمان کے دارالحکومت مسقط اور پھر روس کے دارالحکومت ماسکو کا دورہ کرے گا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مختلف سفارتی محاذوں پر متحرک ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، اسرائیل سے متعلق تنازعات، اور اقتصادی پابندیوں کے باعث امریکہ اور ایران کے تعلقات نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔




