جموں و کشمیر ہمیشہ سے اپنی قدرتی خوبصورتی، تہذیبی گہرائی اور روحانی شناخت کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جسے صدیوں سے امن، علم اور انسان دوستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہاں ایک ایسا خاموش مگر انتہائی خطرناک مسئلہ ابھر آیا ہے جس نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ مسئلہ منشیات کا ہے ایک ایسا زہر جو آہستہ آہستہ نوجوانوں کی سوچ، صحت اور مستقبل کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ نشہ صرف ایک انفرادی برائی نہیں رہی بلکہ ایک وسیع سماجی بحران بن چکا ہے۔ ہر محلے، ہر گاؤں، ہر شہر اور ہر طبقے میں اس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کی لپیٹ میں زیادہ تر نوجوان آ رہے ہیں، جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب یہی سرمایہ کمزور ہو جائے تو صرف افراد نہیں بلکہ پورا معاشرہ اپنی سمت کھو دیتا ہے۔ یہ سوال بہت اہم ہے کہ ایک نوجوان آخر نشے تک پہنچتا کیسے ہے؟ عام طور پر یہ سفر ایک دم نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے۔ اکثر آغاز ایک معمولی سی غلطی سے ہوتا ہے دوستوں کی محفل، تجسس، ذہنی دباؤ، یا وقتی فرار کی خواہش۔ نوجوان سمجھتا ہے کہ یہ صرف ایک تجربہ ہے، لیکن یہی تجربہ رفتہ رفتہ عادت میں بدل جاتا ہے اور پھر عادت ایک ایسی مضبوط لت کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
جموں و کشمیر میں اس مسئلے کے پیچھے کئی گہرے سماجی اور معاشی عوامل موجود ہیں۔ بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب مستقبل غیر یقینی نظر آئے تو انسان ذہنی دباؤ میں آجاتا ہے۔ ایسے میں اگر صحیح رہنمائی نہ ملے تو وہ غلط راستوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ بری صحبت، غیر ذمہ دارانہ دوستی اور سماجی دباؤ بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ نشے کا آغاز ایک فرد سے ہوتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک نوجوان جب اس عادت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے قریبی دوستوں کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلے دو افراد، پھر تین، پھر ایک چھوٹا گروہ اور پھر ایک مکمل حلقہ بن جاتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف نشے تک محدود نہیں رہتا بلکہ کئی بار چوری، جرائم اور سماجی بدامنی کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس پورے پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے اس مسئلے کے خلاف جس سنجیدگی اور تیزی کے ساتھ اقدامات کیے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔ خصوصاً لیفٹننٹ گورنر کی سربراہی میں “نشہ مکت جموں و کشمیر” کے نام سے شروع کیا گیا 100 دنوں کا خصوصی ابھیان ایک واضح اور مضبوط قدم ہے۔ یہ مہم اس بات کی علامت ہے کہ اب اس مسئلے کو محض ایک سماجی خرابی نہیں بلکہ ایک سنگین خطرے کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے تحت اسکولوں، کالجوں، دفاتر اور عوامی مقامات پر آگاہی پروگرام، کیمپس، میدانوں اور پوسٹر مہمات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مثبت ماحول پیدا کر رہا ہے جہاں معاشرے کا ہر طبقہ اس مسئلے سے براہ راست جڑ رہا ہے۔ بچے، نوجوان، والدین، اساتذہ اور بزرگ سب ایک ہی پیغام کو دہرا رہے ہیں کہ نشہ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس طرح کی حکومتی مہمات کے کئی مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ نوجوانوں میں شعور پیدا کرتی ہیں کہ نشہ وقتی سکون تو دے سکتا ہے مگر مستقل تباہی کا سبب بنتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایسے اقدامات منشیات فروشوں کے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھاتے ہیں اور قانون کا خوف پیدا کرتے ہیں۔ تیسرا اور سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ خاندانوں میں ایک کھلی گفتگو شروع ہوتی ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اس طرح کی مہمات کو مستقل بنیادوں پر جاری نہ رکھا جائے تو ان کا اثر محدود ہو جاتا ہے۔ منشیات ایک ایسا مسئلہ ہے جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ بدلتا اور پھیلتا رہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ “100 دن” کو ایک آغاز سمجھا جائے، اختتام نہیں۔ اس مہم کو ہر سال، ہر مرحلے اور ہر سطح پر جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ ہر نئی نسل اس شعور سے جڑی رہے۔ میری رائے میں اس مہم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی پر دوبارہ غور کریں۔ بہت سے نوجوان ایسے ہوتے ہیں جو نشے میں صرف اس لیے چلے جاتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔ لیکن جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ زندگی کے مسائل عارضی ہوتے ہیں اور ان کا حل موجود ہے تو وہ دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر نشے کا عادی فرد مجرم نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایک متاثرہ انسان ہوتا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو صرف سزا کے زاویے سے نہیں بلکہ علاج، رہنمائی اور بحالی کے زاویے سے بھی دیکھنا ہوگا۔ اگر کسی نوجوان کو وقت پر سپورٹ مل جائے تو وہ اپنی زندگی دوبارہ بنا سکتا ہے۔
ایک حقیقی مثال اس بات کو مزید واضح کرتی ہے۔ ایک نوجوان جسے ہم (نام تبدیل کیا گیا ہے) “سجاد میر” کہہ سکتے ہیں، انہوں نے اپنی دردناک کہانی ہمیں سناتے ہوئے کہا کہ میں ایک متوسط مگر تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اور میں ایک کامیاب کاروبار کی طرف بڑھ رہا تھا مگر اچانک کاروباری نقصان نے میری زندگی بالکل بدل دی۔ کاروبار میں لاکھوں کا نقصان ہونے کے بعد میں ذہنی دباؤ میں چلا گیا، کام چھوڑ دیا اور آہستہ آہستہ غلط صحبت اختیار کر لی۔ ابتدا میں سگریٹ اور جوا جیسی عادتوں کا شکار ہوا، پھر حالات مزید بگڑے اور میں مکمل طور پر نشے میں مبتلا ہو گیا۔
میں نے بہت کوشش کی اس نشے سے نکلنے کی مگر میں اس وقت تک بہت آگے جا چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری صرف ایک بہن تھی جس نے میری بہت مدد کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ میری بہن نے امید نہیں چھوڑی۔ اس نے نہ صرف مجھے جذباتی سہارا دیا بلکہ مالی مدد بھی کی۔ اپنے زیورات تک بیچ کر مجھے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کا حوصلہ و موقع دیا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ زندگی میں نقصان آتے ہیں مگر ہار ماننا حل نہیں۔ یہی سہارا میری زندگی میں تبدیلی کا نقطہ ثابت ہوا۔ آہستہ آہستہ میں نشے سے باہر آیا، بری صحبت چھوڑ دی اور دوبارہ اپنی زندگی سنوارنے لگا۔ آج میں ڈیڑھ سال سے مکمل طور پر اس لت سے دور ہوں اور ایک عام سماجی اور اپنے خاندان کے ساتھ مل کر زندگی گزار رہا ہوں۔ یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر سہارا، محبت اور رہنمائی ہو تو کوئی بھی انسان دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ نشے کے خلاف جنگ صرف قانون کی نہیں بلکہ انسانیت کی جنگ ہے۔ ہمیں ان افراد کو نفرت کی نظر سے نہیں بلکہ مدد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم انہیں صحیح وقت پر سہارا دیں تو ہم صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورا خاندان اور مستقبل بچا سکتے ہیں۔ میرا یہی کہنا ہے کہ نشہ مکت جموں و کشمیر صرف ایک حکومتی پروگرام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ ایک ایسا مشن ہے جس میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اگر ہم نے آج مل کر قدم اٹھا لیا تو یہی نوجوان اس خطے کا روشن مستقبل بن سکتے ہیں ایک ایسا مستقبل جو ترقی، امن اور امید کی علامت ہوگا۔





