• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۱۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
نشہ مکت ابھیان اور شراب پر پابندی

نشہ مکت ابھیان اور شراب پر پابندی

اداریہ: ہفت روزہ اُمت سرینگر کشمیر، 15 مئی 2026 شمارہ

by امت ڈیسک
15/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

کشمیر کی سرزمین ہمیشہ اپنی روحانی روایت، تہذیبی پاکیزگی اور اخلاقی اقدار کے لیے پہچانی جاتی رہی ہے۔ یہاں کے لوگ مذہبی وابستگی، خاندانی نظام اور سماجی وقار کو اپنی زندگی کا بنیادی حصہ سمجھتے ہیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران وادیٔ کشمیر میں منشیات، شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سماج کے ہر حساس طبقے کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے، آہستہ آہستہ اس زہر کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کشمیر میں’’نشہ مکت ابھیان‘‘ محض ایک سماجی مہم نہیں بلکہ ایک اجتماعی فریضہ بن چکا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ منشیات کی لعنت نے نہ صرف نوجوانوں کی صحت کو تباہ کیا بلکہ خاندانوں کو بھی بکھیر دیا ہے۔ والدین کی اُمیدیں دم توڑ رہی ہیں، تعلیمی اداروں کا ماحول متاثر ہو رہا ہے اور جرائم میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسے حالات میں سماج کے ہر فرد، مذہبی قیادت، اساتذہ، دانشوروں اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ناسور کے خلاف متحد ہو جائیں۔

اسی تناظر میں شراب پر مکمل پابندی کا مطالبہ بھی شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر واقعی نوجوانوں کو تباہی سے بچانا مقصود ہے تو شراب کی فروخت اور لائسنسنگ پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایک طرف’’نشہ مکت‘‘ مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف شراب کی دستیابی پر مکمل روک نہیں لگائی جا رہی۔ کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے جہاں شراب نہ صرف مذہبی اعتبار سے حرام ہے بلکہ سماجی اور اخلاقی بگاڑ کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔بھارت کی کئی ریاستوں میں شراب بندی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جہاں گھریلو تشدد، سڑک حادثات اور جرائم میں واضح کمی دیکھی گئی۔ کشمیر میں بھی اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کرے تو اس سے سماج کو ایک مثبت پیغام ملے گا اور نوجوان نسل کو تباہی کے راستے سے بچانے میں مدد ملے گی۔

البتہ صرف پابندی کافی نہیں ہوگی۔ حکومت کو بحالی مراکز، نفسیاتی مشاورت، روزگار کے مواقع اور تعلیمی بیداری کے پروگرام بھی وسیع پیمانے پر شروع کرنے ہوں گے۔ جو نوجوان نشے کی لعنت میں مبتلا ہو چکے ہیں، انہیں مجرم نہیں بلکہ مریض سمجھ کر ان کی اصلاح اور بحالی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اخبارات، رسائل، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ منشیات کے نقصانات، شراب کے سماجی اثرات اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے مستقل بیداری مہم چلائیں۔ خصوصاً دینی و سماجی صحافت کو اس مسئلے پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کی عوام اجتماعی طور پر یہ عہد کرے کہ وہ اپنی نسلوں کو منشیات اور شراب کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن قربانی دے گی۔ اگر ہم نے بروقت اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

نشہ مکت کشمیر صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہونی چاہیے، ایسی تحریک جو نوجوانوں کو زندگی، اُمید، کردار اور ایمان کی طرف واپس لے آئے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

مغربی بنگال میں جانوروں کے ذبیحہ پر سخت قوانین نافذ؛ سرکاری فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر قربانی پر پابندی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کشمیر میں این جی اوز کی بھرمار:کارکردگی، مسائل اور اصلاح کی ضرورت

کشمیر میں این جی اوز کی بھرمار:کارکردگی، مسائل اور اصلاح کی ضرورت

08/05/2026
مکمل نابینا ہونے کے باوجود عزم کی مثال وادی کشمیر بانڈی پورہ کے عرفان احمد لون نے UPSC امتحان میں کامیابی حاصل کر لی:

نشہ مکت جموں و کشمیر: ایک سماجی امتحان، نوجوانوں کی آزمائش اور امید کی نئی کرن

08/05/2026
بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

08/05/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

بین الاقوامی یوم صحافت: جموں وکشمیر میں اردو صحافت کا پس منظر۔۔۔۔

08/05/2026
اشاعت توحید احیائے سنت کے داعی:مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانیؒ بارہمولہ

اشاعت توحید احیائے سنت کے داعی:مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانیؒ بارہمولہ

01/05/2026
بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

عالمی یومِ ویٹرنری:ویٹرنری خدمات، ایک خاموش مگر اہم کردار

01/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »