ہر گھر میں اور ہر در پر لوگ پریشان ہیں۔ باغ بغیچے، کھیت کھلیان سب کے سب ویران ہے، جل اور تھل، ون اور بن سب کے سب سنسان ہیں۔ جی ہاں! آپ کا اندازہ بالکل صحیح ہے بات ہو رہی ہے رویی کی،جو کہ برف باری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نہ جانے یہ کیسا پھل ہے، اس کا نہ کوئی حل ہے آج ہے یا کل ہے خشک ہر اک نل ہے۔۔
لوگوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے اس سے بچنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں اس نے دستک نہ دی ہو۔
سڑک چھاپ سے لیکر حکمران طبقہ اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ بلا امتیاز رنگ و نسل، ذات پات، مذہب وطن ہر ایک فرد پر مسلط ہو چکی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ اب کوئی ٹاسک فورس اس سے نمٹنے کا کام کرے گا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ رویی ان کو بھی ناکام کرے گی۔ ان کو بھی زکام پریشان کرے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر اک راہگیر ناک میں انگلی ڈال کر چلتا ہے، چند قدم بڑھتے ہی ہاتھ ملتا ہے۔
شام کے وقت دیکھیے تو نظارہ کچھ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، لوگ چہرے پر ماسک لگائے گھومتے ہیں، رویی ان پر گرتے ہی وہ جومتے ہیں۔ مجبوری میں رویی کو چومتے ہیں۔ ہر اک چیز بے رنگ ہے، عقل دھنگ ہے، جسم کے ہر اک انگ کو جیسے لگ چکی زنگ ہے، چھوٹے بچے بھی گھروں میں کرتے تنگ ہے اور لوگ باہر رویی سے کرتے جنگ ہیں۔
خدا ہی بہتر جانے کہ یہ جنگ اب کب ختم ہو گی۔ لیکن فی الحال تو اس سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، کسی کی خراب ہے چھاتی، جہاں دیکھو، جس طرف دیکھو ہر طرف سے رویی ہے آتی، آج تو ہر شے یہی ہے گاتی۔۔۔۔
رویی سے کہتی ہے۔۔۔
لگ جا گلے کہ پھر کہیں ملاقات ہو نہ ہو۔۔۔۔۔۔




