ناہیدہ ملک
بالکونی میں Rocking Chair پہ بیٹھے، ہاتھوں میں گرم چائے کی پیالی تھامے ہوئے، انگلیوں کو ہلکی جنبش دیے، پہاڑوں کے درمیان کا دلکش نظارہ دل کو لبھانے لگا۔ نیم صبح کے وقت پہاڑوں پر پڑی سورج کی کرنیں ایک دلچسپ، حسین منظر میری طبیعت کو ایک نیا انداز، انوکھا رخ دینے لگیں۔ یہ پیڑوں پہ چہکتی بلبل، دلکش ساز و آواز کا یہ سما، مجھ کو اپنے وجود میں ڈھالنے لگا، اور کچھ ہی لمحوں میں اَبر کی گہری دھند کا منظر، فضا کی ہلکی آنچ، گنگناتی سریلی سُروں میں جیسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
ہلکے ہاتھوں بالوں کو سلجھانا میرا، میری مسکان جیسے شبنم کی اوس کی طرح ٹھہری ہوئی، وہی شوق، وہی امنگ، خواہش۔۔۔ مانو پھر سے میں زندہ ہونے لگی۔ میرے ارد گرد وہ تمام رنگ روپ نکھرنے لگے، جہاں کوئی فکر نہ کسی سمجھوتے سے واسطہ۔ کچھ دیر کے لیے میں اپنے بس میں نہ رہی، اور پھر چند گھڑیوں میں اُن مست سانسوں کے چلتے۔۔۔۔ اچانک ایک گرج چمک اٹھی اور میں سہم کر وہیں مایوس ٹھہر گئی۔ مختلف غور و فکر آندھی کی طرح منڈلانے لگے۔
اپنے خیالوں کے ورق پہ چھوٹے چھوٹے حروف میری تلاشی لینے لگے۔ تختی پہ سفید مٹی سے لکھی عبارت میرے ارد گرد گردش کرنے لگی، اور مسلسل میرا عکس مجھے اشارہ کرتا رہا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بارش کی رم جھم میں، بھیگتا میرا آنچل، کپکپاتے لب و رخسار پہ رکی ہلکی بوندیں جیسے کچھ کہہ رہی ہیں، اور یہ لفظ عام کر رہی تھیں کہ۔۔۔۔۔۔
“اس خوبصورت سما میں بد مست ہو، خوشی سے سرشار ہو جا، لہرا کر جھوم جا۔ مٹی کی خوشبو ہے، گرج ہے، چمک ہے، اَبر ہے۔۔۔ یہ سما تجھ پہ مہربان ہے۔۔۔”
نہ جانے عہدِ کہن کی کون سی لرزش تھی یہ، جو اپنی زبان کھولے بیٹھی تھی۔
وہ مسرتوں کے قہقہے، وہ اشک، آنکھوں میں سرمہ پھیلائے ہوئے۔۔۔ کبھی ریت کے ٹیلوں پر گھر بنا کر گرا دینا، تو کبھی مٹی کی دیوار پہ اپنا نام “سکندر” لکھتے جانا۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہوش میں آتے آتے گھٹنے ٹیک دینا، اور۔۔۔۔۔۔
آخر، ہم سمجھدار ہوتے گئے۔
فیصلے اور فاصلے قائم ہوتے گئے۔ دانائی دامن تھام گئی۔۔۔ ہم سنجیدہ ہوتے گئے، زمین و آسماں کے درمیاں کی وسعت کو سمجھتے گئے، ہوا کا رخ، زمانے کی سازگاریاں، اور بات کو ٹالنا آ گیا۔ حالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت آنے لگی۔۔۔
الفاظ اور لہجے نرم ہوتے گئے، چشم تعویذ ہوتے گئے۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔۔۔ تیز بارشوں میں کسی کا کچا گھر گرتے دکھنے لگا، تو کسی بھوکے بلکتے کی پکار سنائی دینے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیز تر ہوا میں سفید پوش بکھرتے دکھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔ کسی کے لباس پیوند کرتے نظر آتے گئے۔۔۔۔
اپنے ہاتھوں میں گرم چائے کی پیالی تھامے ہوئے، بھوکے بلکتے کی سسکیاں محسوس ہوتی گئیں۔۔۔ اب میرے ہاتھوں کی انگلیوں میں فکر انگیز کپکپاہٹ مسلسل اضافہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر میرے ہاتھوں میں چائے کی پیالی، اور چشمِ نم ہیں۔
میرا خاموش احساس ان دلکش، چمکتے پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، کوہساروں کو ترستی نگاہوں سے دیکھتا رہا، اور کہتا رہا۔۔۔
اتر کے روح کی گہرائیوں میں ڈرتی ہوں
ہلاک کر نہ دیں کہیں اپنی صداقتیں مجھ کو
مجھ کو فرصتِ دل بستگی نہیں ہے، ناہد۔۔۔
وہ آنکھیں آج بھی دیتی ہیں دعوتیں مجھ کو۔۔۔




