زندگی کبھی کبھی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں انسان خود کو بالکل بے بس محسوس کرتا ہے. ایک ایسا لمحہ ایک ایسا حادثہ جو صرف جسم کو نہیں بلکہ روح کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ایک ایسا واقعہ جس نے میری سوچ میری ترجیحات اور میری پوری زندگی کا رخ بدل دیا. پہلے میں بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار رہی تھی روزمرہ کی مصروفیات چھوٹی چھوٹی پریشانیاں کبھی خوشی تو کبھی غم سب کچھ ایک معمول کا حصہ تھا صحت کو کبھی خاص اہمیت نہیں دی کیونکہ وہ ہمیشہ ساتھ تھی انسان اکثر اُن نعمتوں کی قدر نہیں کرتا جو بغیر مانگے ملتی ہیں اور میں بھی انہی میں سے ایک تھی. پھر اچانک ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
وہ لمحہ آج بھی میری یادوں میں تازہ ہے جسم میں اچانک ایک عجیب سا بوجھ محسوس ہوا سانس لینا مشکل ہونے لگا دل کی دھڑکن تیز اور بے قابو ہو گئی ایسا لگا جیسے زندگی ہاتھ سے پھسل رہی ہو اُس وقت نہ کوئی منصوبہ یاد تھا نہ کوئی خواب بس ایک خوف تھا ایک انجانا سا ڈر کہ شاید اب سب ختم ہونے والا ہے۔
میں ہسپتال کے بستر پر لیٹی تھی اردگرد مشینوں کی آوازیں ڈاکٹرز کی جلدی جلدی حرکتیں اور میرے دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا:“اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچوں کا کیا ہوگا”۔
یہ سوال میرے وجود کو چیر کر رکھ دیتا تھا. ماں ہونا صرف ایک رشتہ نہیں ایک ذمہ داری ہے ایک احساس ہے جو انسان کو ہر لمحہ زندہ رکھتا ہے میرے بچے میری زندگی کا سب سے قیمتی حصہ اُن کی معصوم مسکراہٹیں اُن کی چھوٹی چھوٹی باتیں اُن کا مجھ سے لپٹ جانا سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا میں سوچتی رہی،اگر آج میں نہ رہی تو کون اُن کا خیال رکھے گا کون اُن کے آنسو پونچھے گا کون اُنہیں وہ محبت دے گا جو صرف ایک ماں دے سکتی ہے یہ سوچ کر دل ٹوٹ جاتا تھا.
اسی لمحے مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ صحت واقعی سب سے بڑی دولت ہے اگر انسان کے پاس صحت نہ ہو تو باقی سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے نہ پیسہ نہ رشتے نہ دنیا کی کوئی چیز اُس خالی پن کو بھر سکتی ہے جو بیماری یا موت کے خوف سے پیدا ہوتا ہے.
میں نے اُس بستر پر لیٹے لیٹے اللہ سے بہت دعائیں کیں آنکھوں سے آنسو بہتے رہے اور دل سے صرف ایک ہی صدا نکلی
“یا اللہ مجھے ایک اور موقع دے دے میرے بچوں کے لیے میری زندگی کے لیے مجھے معاف کر دے اور مجھے صحت عطا فرما دے.”
اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے۔اُس نے میری فریاد سنی آہستہ آہستہ میری حالت بہتر ہونے لگی. ہر گزرتا دن ایک نئی امید لے کر آتا تھا ہر سانس ایک نئی زندگی کا احساس دلاتی تھی. اور اُس دن مجھے یہ سچائی پوری طرح سمجھ آ گئی.“صحت ہے تو سب کچھ ہے”۔
آج جب میں اپنے بچوں کو دیکھتی ہوں اُن کے ساتھ وقت گزارتی ہوں تو دل شکر سے بھر جاتا ہے اب مجھے زندگی کی اصل حقیقت سمجھ آ گئی ہے ہم اکثر فضول باتوں میں الجھ کر اپنی اصل نعمتوں کو بھول جاتے ہیں ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اگر صحت نہ ہو تو یہ سب کچھ کوئی معنی نہیں رکھتا.
یہ حادثہ میرے لیے ایک سبق بن گیا ایک ایسا سبق جس نے مجھے بدل دیا اب میں اپنی صحت کا خیال رکھتی ہوں اپنے دل و دماغ کو سکون دینے کی کوشش کرتی ہوں اور ہر لمحہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں.
میں نے سیکھ لیا ہے کہ زندگی بہت نازک ہے ہمیں نہیں معلوم کہ اگلا لمحہ ہمارے لیے کیا لے کر آئے گا اس لیے ہمیں ہر دن کو قیمتی سمجھنا چاہیے اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے اور اپنی صحت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے. اگر آج آپ صحت مند ہیں تو یہ اللہ کا سب سے بڑا کرم ہے اس کی قدر کریں اپنی زندگی کو بہتر بنائیں اپنے جسم اور دل کا خیال رکھیں.
اور اگر آپ کسی مشکل یا بیماری سے گزر رہے ہیں تو ہمت نہ ہاریں اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے ہر اندھیری رات کے بعد روشنی آتی ہے اور ہر تکلیف کے بعد سکون ملتا ہے میں آج بھی اُس دن کو یاد کرتی ہوں اور دل سے دعا کرتی ہوں:“یا اللہ! کسی کو بھی ایسا وقت نہ دکھانا کسی ماں کو اپنے بچوں کے بارے میں اس طرح نہ سوچنا پڑے”۔
آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اگر صحت ہے تو سب کچھ ہے اور اگر صحت نہیں تو کچھ بھی نہیں. اپنی صحت کا خیال رکھیں اپنے پیاروں کے لیے اور اپنے لیے بھی.



