امت نیوز ڈیسک //
بھارت کے معروف اردو شاعر، جدید غزل کے بے مثال فنکار اور پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر آج بھوپال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے اردو ادب اور شعری دنیا میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈاکٹر بشیر بدر اردو شاعری کا وہ روشن نام تھے جنہوں نے محبت، تنہائی، یادوں، درد اور زندگی کی تلخیوں کو نہایت سادہ مگر دلنشیں انداز میں بیان کیا۔ ان کے اشعار صرف الفاظ نہیں بلکہ جذبات کی ایسی ترجمانی تھے جو نسلوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
ان کا ایک مشہور شعر آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے:
“شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے
جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے”
اسی طرح ان کی یہ غزل بھی بے حد مقبول ہوئی:
“اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے”
ڈاکٹر بشیر بدر 15 فروری 1935 کو ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہوئے اور پھر میرٹھ کالج میں اردو شعبے کے صدر اور استاد کے طور پر تقریباً 17 برس خدمات انجام دیں۔
وہ اردو، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے صرف سات برس کی عمر میں شاعری شروع کر دی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ جدید اردو غزل کے سب سے مقبول اور منفرد شعرا میں شمار ہونے لگے۔
ڈاکٹر بشیر بدر کی مشہور کتابوں میں “اکائی”، “امیج”، “آمد”، “آہٹ”، “آس” اور “کلیاتِ بشیر بدر” شامل ہیں۔ ان کی تنقیدی تصانیف “آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ” اور “بیسویں صدی میں غزل” اردو ادب میں اہم مقام رکھتی ہیں۔
ان کی شاعری دیوناگری اور گجراتی رسم الخط میں بھی شائع ہوئی جبکہ ان کے کلام کے انگریزی اور فرانسیسی تراجم نے انہیں عالمی سطح پر بھی متعارف کرایا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پدم شری سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں اتر پردیش اردو اکیڈمی نے چار مرتبہ جبکہ بہار اردو اکیڈمی نے بھی اعزاز سے نوازا۔ انہیں نیویارک میں “پوئٹ آف دی ایئر 1980” ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
ان کی زندگی میں کئی مشکلات بھی آئیں۔ ایک ہولناک آتشزدگی میں ان کا گھر اور قیمتی ادبی سرمایہ جل کر خاک ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوگئے اور وہیں سے اپنی زندگی اور ادبی سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے امریکہ، قطر، دبئی اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں مشاعروں میں شرکت کی اور دنیا بھر میں اردو زبان کے چاہنے والوں کے دل جیتے۔
ان کے انتقال سے اردو ادب ایک عظیم شاعر سے محروم ہوگیا ہے، تاہم ان کی لازوال غزلیں اور اشعار ہمیشہ ادب دوستوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔




