امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ آج صبح سویرے انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور انہیں بڈگام جانے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ وہ اُس سوگوار خاندان سے تعزیت کر سکیں جس کی 12 سالہ بیٹی ایک نہایت دل دہلا دینے والے اور افسوسناک واقعے میں قتل کی گئی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں میرواعظ نے کہا: "آج صبح سویرے مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا، کیونکہ مجھے بڈگام جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔” انہوں نے کہا کہ "میرے تمام دورے حکام کی اجازت سے مشروط ہوتے ہیں اور اس کے لیے ایک دن پہلے ہی اطلاع دینی ہوتی ہے، تاکہ میں اس سوگوار خاندان سے تعزیت کر سکوں اور اُن کے غم میں شریک ہو سکوں، جنہوں نے ایک نہایت دل دہلا دینے والے اور افسوسناک واقعے میں اپنی 12 سالہ بچی کو کھو دیا۔
میرواعظ کشمیر نے حکام کی تنقید کرتے ہوئے لکھا: "یہ عجیب بات ہے کہ ہمدردی اور تعزیت جیسے ایک بنیادی انسانی جذبے کو بھی روکا جا رہا ہے، کیونکہ شاید یہ حکمرانوں کے ‘امن اور معمول کی صورتحال’ کے بیانیے کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔”
واضح رہے کہ اتوار کو وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں اُس وقت کہرام مچ گیا جب ایک بارہ سالہ بچی کی لاش اس کے گھر کے قریب پر اسرار حالت میں موصول ہوئی۔ مقتولہ کے اہل خانہ کے مطابق بچی گھر سے قرآن لیکر درسگاہ گئی، تاہم وہ لوٹ کر واپس نہیں آئی اور ایک روز بعد انہیں اس کی لاش موصول ہوئی۔
معصوم بچی کے بہیمانہ قتل کی واردات کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ کئی سیاسی لیڈران نے بڈگام پہنچ کر اہل خانہ سے تعذیت کی۔ وہیں آج یعنی عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل میرواعظ کشمیر بھی بڈگام جانے کی کوشش میں تھے تاہم انہیں خانہ نظر بند رکھا گیا۔




