امت نیوز ڈیسک//
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک ابتدائی مفاہمتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا اور بعض اہم نکات پر بات چیت جاری ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کی منظوری کا حتمی اختیار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور ایرانی حکام کے درمیان چند قانونی اور تکنیکی نکات پر مذاکرات جاری ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’معاہدہ تقریباً تیار ہے، لیکن ابھی کچھ زبان اور جوہری امور سے متعلق معاملات طے ہونا باقی ہیں۔‘‘
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق اہم شرائط شامل کی گئی ہیں۔ ایران اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد نہیں کرے گا اور آئندہ 30 دنوں کے اندر سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹائے گا۔ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر عائد پابندیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔
معاہدے کے تحت امریکہ مرحلہ وار ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں بھی نرمی لائے گا، جس سے ایران کو عالمی منڈی میں تیل کی فروخت بڑھانے کا موقع ملے گا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی فوج کے تیل کی فروخت سے منسلک بعض اداروں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن دباؤ اور مذاکرات کی دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے سب سے پیچیدہ مسئلہ ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ہتھیاروں کے لیے درکار افزودگی کی سطح 90 فیصد سمجھی جاتی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور مستقبل میں افزودگی کی حدوں پر بنیادی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ تفصیلی معاملات آئندہ مذاکراتی دور میں طے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک، ممکنہ طور پر روس یا چین، کے حوالے کرنے کی تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے اس امکان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ادھر ایران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے اسرائیل کی جانب سے لبنان اور خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے باعث علاقائی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
اگرچہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک مکمل جنگ کی طرف واپس نہیں لوٹے۔ گزشتہ روز کویت نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکہ نے جنوبی ایران میں ڈرون لانچنگ تنصیبات اور عسکری اہداف پر کارروائی کی۔ اس کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔




