امت نیوز ڈیسک //
کُلگام، یکم جون: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے اتوار کو منشیات کے خاتمے کے لیے انتظامیہ کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نشہ آور اشیا کے خلاف مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایک منشیات سے پاک معاشرہ قائم نہیں ہو جاتا۔
کُلگام میں ’’نشہ مکت بھارت‘‘ مہم کے تحت منعقدہ میگا پد یاترا سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت نے پورے جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منشیات سے متعلق جرائم کے سلسلے میں اب تک تقریباً 930 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، جبکہ جاری انسدادِ منشیات مہم کے دوران ایک ہزار سے زائد منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
غیر قانونی منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکام نے 600 سے زائد ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے ہیں، جبکہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث 124 افراد کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کی فعال شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں سے اس مہم میں بھرپور تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منشیات سے دور رہیں اور ایک صحت مند، مضبوط اور خوشحال معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
منوج سنہا نے انتظامیہ کی ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو منشیات کی لعنت سے مکمل طور پر آزاد کرانے تک انسدادِ منشیات کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔






