امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ، 9 جون: رکنِ پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے منگل کو کہا کہ وہ نیشنل کانفرنس کے مجوزہ جنتر منتر احتجاج میں ضرور شرکت کریں گے، تاہم ان کی بنیادی مانگ ریاستی درجے کی بحالی نہیں بلکہ آرٹیکل 370 کی بحالی ہے۔
پلوامہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ احتجاج میں شامل ہوں گے، لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کو صرف ایک روزہ سیاسی مظاہرے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک مسلسل، منظم اور مضبوط سیاسی تحریک کی ضرورت ہے، جو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود نہ ہو بلکہ 2019 سے قبل حاصل آئینی تحفظات کی بحالی کو بھی اپنا مقصد بنائے۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ محض ایک احتجاج کافی نہیں ہوگا، بلکہ عوامی حقوق، شناخت اور آئینی تحفظات کے لیے مستقل سیاسی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے 2019 کے بعد نوجوان نسل کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے انصاف ناگزیر ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ نے زمینوں، روزگار اور ریزرویشن پالیسی سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مقامی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پلوامہ سمیت مختلف دیہی علاقوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ زرعی سرگرمیوں اور روزگار پر اثر انداز ہونے والی پابندیاں ایک منظم ناانصافی کی عکاسی کرتی ہیں۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ کئی اہم سیاسی اور انتظامی وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بہتر طرزِ حکمرانی سے وقتی طور پر حالات میں بہتری آ سکتی ہے، لیکن بنیادی مسائل کے حل کے بغیر عوامی بے چینی برقرار رہے گی۔
انہوں نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں "مستقل امن” صرف "انصاف” کے ذریعے ہی ممکن ہے، علامتی اقدامات سے نہیں۔






