امت نیوز ڈیسک //
تہران: ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے جنگ بندی کی تصدیق کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور طاقتور ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق، "ہم اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں روک رہے ہیں، لیکن اگر لبنان یا دیگر مقامات پر دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران زیادہ شدت سے جواب دے گا۔”
ایران کی مسلح افواج نے بھی ایک بیان میں فوجی آپریشنز کی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی مشروط ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر دشمن کی جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں، خصوصاً جنوبی لبنان میں، تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر نے کہا کہ ایران اور اسرائیل فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور امن مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ "دونوں فریق فوری جنگ بندی چاہتے ہیں، جبکہ مستقل امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں۔”
گزشتہ رات ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب اسرائیل نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔
ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر بیروت یا لبنان میں اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کرے گا۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔






