امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 12 جون: مرکزی حکومت نے صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین کے لیے پٹرول پمپوں سے پٹرول اور ڈیزل کی خریداری پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ اب ایسے صارفین کو اپنی ضروریات کے لیے بلک سپلائی مراکز سے ایندھن حاصل کرنا ہوگا۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ پابندیاں ابتدائی طور پر 90 دن تک نافذ رہیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بعض علاقوں میں ڈیزل کی غیر معمولی مانگ دیکھی گئی، کیونکہ بلک صارفین قیمتوں کے فرق کی وجہ سے پٹرول پمپوں سے ایندھن خرید رہے تھے۔
دہلی میں جہاں پٹرول پمپ پر ڈیزل کی قیمت 95.20 روپے فی لیٹر ہے، وہیں بلک سپلائی کی قیمت 134.50 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ اس فرق کے باعث کئی صنعتی اور تجارتی ادارے بلک سپلائی کے بجائے ریٹیل پمپوں سے ایندھن خریدنے لگے تھے۔
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے 11 جون کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا کہ عالمی جغرافیائی کشیدگی اور بین الاقوامی تیل سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث یہ اقدام ضروری ہو گیا ہے تاکہ عام صارفین کے لیے ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
نئے حکم کے تحت صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین کو پٹرول پمپوں سے ایندھن لینے سے روکا جا سکتا ہے اور انہیں اپنی مخصوص بلک سپلائی سہولیات سے ایندھن حاصل کرنا ہوگا۔
حکومت نے ڈیزل کی ریٹیل فروخت پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اب پٹرول پمپوں پر ڈیزل صرف گاڑیوں کے ٹینکوں یا پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیو سیفٹی آرگنائزیشن (PESO) سے منظور شدہ کنٹینرز میں ہی دیا جائے گا، جبکہ ایک صارف یا گاڑی کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل خریدنے کی اجازت ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بلک صارفین کی جانب سے پٹرول پمپوں سے بڑے پیمانے پر خریداری سے عام لوگوں کے لیے مختص ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور بعض علاقوں میں قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
نوٹیفکیشن میں ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ، غیر مجاز خریداری اور ایندھن کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی منصفانہ دستیابی کو یقینی بنانا، ذخیرہ اندوزی روکنا اور ایندھن کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھنا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضروری اشیاء ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔





