جموں کشمیر سے اس وقت پانچ لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ ہیں جو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں عوام کی جانب سے اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کے لیے چنے گئے۔ اگر وادی کشمیر کی کے حلقوں سے بات کریں تو سرینگر سے آغا روح اللہ مہدی، جنوبی کشمیر سے میاں الطاف اور شمالی کشمیر سے اس وقت تہاڑ جیل میں بند انجینئر رشید ہیں۔ اسی طرح سے جموں کی بات کریں جموں سے جگل کشور اور ادھم پور سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ جو اس وقت وزیر مملکت بھی ہیں۔
حال ہی میں اب تک ان اراکین کی جانب سے ایم پی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم کی تازہ ترین کارکردگی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں وادی کشمیر کے اراکین پارلیمنٹ کی کارکردگی پر شدید سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔وادی کشمیر کے تینوں اراکین کی جانب سے اپنے اپنے حلقوں میں لاکھوں ووٹوں کے فرق سے مخالف امیدوار کو شکست دی گئی ہے جس سے واضح نظر آتا ہے کہ ان ممبران پر لوگوں نے واضح اکثریت سے اعتماد دیا ہے۔ لیکن اس وقت تصویر یہ کہ تینوں اراکین این سی سرکار کی کارکردگی پر سوال کھڑے کر رہے ہیں لیکن خود ان کی کارکردگی پر سوالات نے جنم لیا ہے۔ وادی کشمیر میں اگرچہ این سی کی جانب سے کئی وعدوں کو لے انتخابات میں کامیابی حاصل کی گئی لیکن زمینی سطح پر اس وقت لوگ کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ اس وقت جہاں بجلی فیس میں اضافہ صاف پینے کے پانی کی قلت، آبپاشی کے پانی کے لیے پریشان کسان، اسپتالوں کی ابتر صورتحال، ڈاکٹروں اور تیمارداروں کے درمیان آئے روز جھگڑے، ایم ایل ایز اور افسران کے درمیان تلخیوں کے ساتھ ساتھ لوگ کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ وہیں دوسری طرف سے ایک رکن پارلیمان کو سالانہ پانچ کروڑ روپے اپنے حلقے کے لیے ملتے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی وہ انہیں خرچ نہی کر پاتے..
سامنے آئی رپورٹ میں جموں و کشمیر کے پانچوں لوک سبھا حلقوں کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور فنڈز کے استعمال میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اُدھم پور لوک سبھا حلقہ ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور فنڈز کے استعمال کے معاملے میں سب سے آگے ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اُدھم پور سے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منظور شدہ 333 منصوبوں میں سے 174 مکمل کیے ہیں، جو مجموعی منصوبوں کا 52.3 فیصد بنتا ہے۔ حلقے میں مختص فنڈز کا 28.2 فیصد استعمال بھی کیا جا چکا ہے، جو جموں و کشمیر کے دیگر تمام پارلیمانی حلقوں کے مقابلے میں سب سے بہتر کارکردگی ہے۔دیگر چار حلقوں میں مجموعی طور پر صرف 63 منصوبے مکمل ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار نے دیگر حلقوں میں منصوبوں کی سست رفتار تکمیل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبے نامکمل پڑے ہیں۔
سرینگر لوک سبھا حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے 163 منظور شدہ منصوبوں میں سے صرف 19 مکمل کیے ہیں، جبکہ 144 منصوبے ابھی تک زیر التوا ہیں۔ حلقے میں مختص فنڈز کا محض 10.7 فیصد استعمال کیا گیا ہے۔
بارہمولہ سے رکنِ پارلیمنٹ نے 124 منصوبوں میں سے صرف 12 مکمل کیے ہیں جبکہ 112 منصوبے ابھی تک نامکمل ہیں۔ حلقے کی تکمیل کی شرح صرف 9.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
جموں سے رکنِ پارلیمنٹ جگل کشور شرما نے 193 منصوبوں میں سے 26 مکمل کیے ہیں جبکہ 167 منصوبے زیر التوا ہیں۔ ان کی تکمیل کی شرح 13.5 فیصد رہی ہے۔اسی طرح اننت ناگ-راجوری لوک سبھا حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ میاں الطاف احمد کی کارکردگی سب سے خراب رہی۔ انہوں نے 66 منظور شدہ منصوبوں میں سے صرف 6 مکمل کیے ہیں جبکہ 60 منصوبے اب بھی زیر التوا ہیں، جس سے اس حلقے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق اُدھم پور میں مکمل ہونے والے منصوبوں کی تعداد جموں و کشمیر کے باقی چار لوک سبھا حلقوں میں مجموعی طور پر مکمل کیے گئے منصوبوں سے بھی زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایم پی ایل اے ڈی ایس کے تحت کروڑوں روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم کئی حلقوں میں منصوبوں پر عمل درآمد انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ اگر چہ انجینئر رشید کی صورتحال کو مختلف ہے تاہم میاں الطاف اور روح اللہ مہدی ایسے اراکین جو اپنے اپنے حلقوں میں موجود نظر آتے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی ان کے حلقوں انکے ہی منظور شدہ منصوبوں پر کام نہیں ہو پارہے جو ان کی عوامی مسائل کو حل کرنے کے تئیں غیر سنجیدگی کو ظاہر کر تی ہے.
یہ فنڈز کیا ہوتے ہیں؟؟
ایم پی ایل اے ڈی ایس مرکز حکومت کی ایک اہم ترقیاتی اسکیم ہے۔ اس کا مقصد ارکانِ پارلیمنٹ کو اپنے علاقوں میں عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کاموں کی سفارش کا اختیار دینا ہے تاکہ مقامی سطح پر بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس اسکیم کے تحت ہر رکنِ پارلیمنٹ کو سالانہ پانچ کروڑ کی رقم مختص کی جاتی ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ خود اس رقم کو خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنے حلقے میں ضرورت کے مطابق منصوبوں کی سفارش کرتا ہے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد ضلع انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری ادارے کرتے ہیں۔
ایم پی ایل اے ڈی فنڈ کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، اسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کے منصوبے، کمیونٹی ہال، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر عوامی فلاحی کام انجام دیے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ فنڈ مقامی ترقی اور عوامی بہبود میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔






