امت نیوز ڈیسک //
پیرس/تہران، 18 جون: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کے تحت موجودہ جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔
14 نکاتی معاہدے میں ایران جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر میں کمی اور بعض پابندیوں کے خاتمے سمیت اہم امور شامل ہیں۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کو "تاریخی دستاویز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مضبوط ایران کا پیغام ہے کہ باہمی احترام کے سائے میں ہی پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ کرے تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
چین اور روس نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو مستحکم بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب تکنیکی سطح پر عمل درآمد کا مرحلہ شروع ہوگا۔ معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی نگرانی آئی اے ای اے کرے گا۔
ادھر سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان مزید بات چیت متوقع ہے، جس میں معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مستقل امن معاہدے کے خدوخال پر غور کیا جائے گا۔
معاہدے کے بعد سعودی عرب کے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں مثبت اشارے مل رہے ہیں۔




