امت نیوز ڈیسک//
سرینگر: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ پنچایتی راج اداروں کو صرف روایتی انتظامی کردار تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں اختراع، مساوی مواقع، پائیدار ترقی اور عوامی اعتماد کے مراکز بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے نچلی سطح کی حکمرانی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منگل کو ’’سیوا سے سمردھی: پنچایت کی قیادت میں خدمات کی فراہمی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے ملک بھر سے آئے مندوبین اور پنچایتی نمائندوں کا خیرمقدم کیا اور مقامی خود اختیاری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے پنچایتی راج کی مرکزی وزارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنچایتوں کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی مؤثر حکمرانی کی بنیاد ہے۔ منوج سنہا نے کہا: "میرا ماننا ہے کہ پنچایتوں کے ذریعے خدمات کی فراہمی حکمرانی کے نظام کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے اور یہ موضوع میرے دل کے بہت قریب ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر طویل عرصے تک مکمل تین سطحی پنچایتی راج نظام سے محروم رہا، تاہم حالیہ برسوں میں فنڈز، اختیارات اور عملے کی منتقلی کے ذریعے مقامی اداروں کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ضلعی ترقیاتی منصوبے منتخب نمائندوں کی مشاورت اور دیہی سطح پر طے شدہ ترجیحات کے مطابق تیار کیے گئے، جس کے نتیجے میں دیہات میں کئی اہم ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہوئے۔
منوج سنہا نے اپنے مدت کار کے دوران کی گئی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انتظامیہ "دربار موو” نظام کے تحت فائلوں کی فیزیکل منتقلی پر انحصار کرتی تھی۔ انہوں نے کہا: "جب میں 2020 میں جموں و کشمیر آیا تو میں نے دیکھا کہ سرینگر سے جموں تک سرکاری فائلیں منتقل کرنے کے لیے 154 ٹرک استعمال ہوتے تھے۔ ڈیجیٹل دور میں یہ صورتحال میرے لیے حیران کن تھی۔”
انہوں نے کہا کہ بعد میں انتظامیہ نے تیزی سے ڈیجیٹل نظام اپنایا اور بیشتر سرکاری عمل آن لائن منتقل کیے، جس سے کارکردگی، شفافیت اور عوامی خدمات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 1100 سے زائد سرکاری خدمات آن لائن فراہم کی گئی ہیں، جس سے جموں و کشمیر ڈیجیٹل عوامی خدمات کے میدان میں ملک کے نمایاں خطوں میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی عوام کو شفاف اور جوابدہ انداز میں خدمات فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔
منوج سنہا نے "بیک ٹو ولیج” پروگرام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کی مہمات نے حکومت اور عوام کے درمیان براہ راست رابطے کو مضبوط کیا ہے اور حکمرانی کو عوامی توقعات سے ہم آہنگ بنایا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دیہی ترقی کے ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بااختیار پنچایتیں ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا: "ترقی یافتہ دیہات کے بغیر ترقی یافتہ بھارت کا تصور ممکن نہیں۔ پنچایتوں کو مضبوط بنانا اور دیہی حکمرانی کو بہتر کرنا قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے۔”
منوج سنہا نے زور دے کر کہا کہ حکمرانی کی بنیاد عوامی شرکت، جوابدہی اور اعتماد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا: "عام شہریوں کے خواب حکمرانی کی دھڑکن میں سنائی دینے چاہئیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2016 سے 2018 کے درمیان تقریباً دو کروڑ ڈیجیٹل لین دین ہوئے تھے، جبکہ صرف 2023 کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔
انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 15 ہزار سے زائد کامن سروس سینٹرز فعال ہیں، جو عوام اور سرکاری خدمات کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ 4290 پنچایتوں میں سے 4211 کو ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑا جا چکا ہے، جو 98 فیصد سے زیادہ رابطے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مطابق باقی 79 پنچایتیں دور دراز اور سرحدی علاقوں میں واقع ہیں، جہاں وزیر اعظم کے "وائبرنٹ ولیجز پروگرام” کے تحت ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ خود کفیل دیہات سے متعلق مہاتما گاندھی کے ویژن کی عکاسی پنچایتی راج نظام میں ہوتی ہے، جو بھارت کی جمہوری روایات اور تہذیبی اقدار کا مظہر ہے۔ انہوں نے نیشنل پنچایت گورننس ایوارڈز جیسے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈز نچلی سطح پر اختراع، شاندار کارکردگی اور جوابدہی کو فروغ دیتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ اعزاز ان پنچایتوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ڈیجیٹل ذرائع اور جدید طریقوں کے ذریعے عوامی خدمات کو بہتر بنایا اور عوامی اعتماد میں اضافہ کیا۔ منوج سنہا نے مختلف مقامی اداروں کے درمیان بہتر تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب حکمرانی کے ماڈلز کو ریاستوں اور علاقوں کے درمیان بانٹنے اور اپنانے کے لیے ایک منظم نظام قائم ہونا چاہیے۔
انہوں نے ملک بھر کی پنچایتوں میں "ولیج انوویشن لیب” قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا: "کیا ہم ہر پنچایت میں ایک انوویشن لیب قائم کرسکتے ہیں؟ ایسے پلیٹ فارم نوجوانوں، کسانوں، تعلیمی اداروں، سائنس دانوں اور سماجی تنظیموں کو مقامی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ پنچایتوں کو ڈیجیٹل خدمات تک آسان رسائی، عوامی شرکت پر مبنی فیصلہ سازی اور زیادہ جوابدہی کو یقینی بنانا ہوگا، جبکہ مقامی ضروریات کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا: "ہمیں ایسی پنچایتوں کی ضرورت ہے جہاں حکمرانی اوپر سے مسلط نہ کی جائے بلکہ مقامی برادریاں اور عوام خود اس کی سمت متعین کریں۔”





