امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 27 جون: عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے دو روزہ مشاورتی اجلاس اور خفیہ رائے شماری کے بعد پارٹی کارکنوں نے انجینئر رشید کے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی تجویز مسترد کر دی۔ خفیہ ووٹنگ میں بھاری اکثریت نے انہیں رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی حمایت کی۔
پارٹی کے مطابق، کل 773 ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے 746 کارکنوں نے استعفیٰ کے خلاف، 24 نے استعفیٰ کے حق میں جبکہ 3 نے نوٹا کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح تقریباً 98 فیصد کارکنوں نے انجینئر رشید کو پارلیمنٹ میں برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
اے آئی پی کے ترجمان پروفیسر ریاض مجید نے کہا کہ رائے شماری کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیری عوام ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت، سیاسی امنگوں اور ثقافتی، مذہبی و آبادیاتی حقوق کے تحفظ کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام چاہتے ہیں کہ انجینئر رشید اپنی رہائی تک بھی رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر برقرار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی قانونی ٹیم کے ذریعے کارکنوں کی رائے انجینئر رشید تک پہنچائے گی اور ان سے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے استعفیٰ نہ دینے کی درخواست کرے گی، تاہم حتمی فیصلہ انجینئر رشید خود کریں گے۔
پروفیسر ریاض مجید نے مزید کہا کہ اب یہ فیصلہ حکومتِ ہند پر منحصر ہے کہ وہ انجینئر رشید کو باعزت طور پر رہا کر کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے یا انہیں قید میں رکھ کر کشمیری عوام میں مزید بے چینی پیدا کرتی ہے۔
انجینئر رشید سنہ 2019 سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک مقدمے میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ وہ اس وقت اپنے والد کے چہلم میں شرکت کے لیے پانچ روزہ عبوری ضمانت پر باہر ہیں۔






