امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 26 جون: وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے موجودہ حکومت پر ہزاروں بیک ڈور تقرریوں کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ڈی پی ایک بھی ایسی تقرری ثابت کر دے جو موجودہ حکومت نے غیر قانونی طریقے سے کی ہو، تو وہ نام سامنے لائے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، "مجھے ایک بھی ایسے شخص کا نام بتائیں جسے ہماری حکومت نے بیک ڈور سے ملازمت دی ہو۔”
انہوں نے پی ڈی پی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ ایک دو روز میں ان کی حکومت کے دو سینئر وزراء پریس کانفرنس کرکے اس معاملے پر تمام حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی اپنی حکومت کے دور کے ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد کی حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر بیک ڈور تقرریاں کی گئیں۔
عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی کے ماموں سرتاج مدنی کے بیٹے کی تقرری کا بھی حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ عدالت تک پہنچا تھا اور عدالتی مداخلت کے بعد مذکورہ تقرری واپس لینا پڑی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پی ڈی پی-بی جے پی دور حکومت میں جموں و کشمیر بینک میں بھی سینکڑوں بیک ڈور تقرریاں کی گئیں، جن کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی موجودہ حکومت پر ایسے الزامات لگا رہی ہے جو مبینہ طور پر اس کے اپنے دورِ حکومت میں پیش آئے تھے، جبکہ موجودہ حکومت کے خلاف عائد کیے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت پر بیک ڈور تقرریوں کو ادارہ جاتی شکل دینے اور اہل نوجوانوں کو روزگار سے محروم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ پی ڈی پی نے اس معاملے پر جموں و کشمیر بھر میں احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔






