وادی کشمیرمیں شادی بیاہ کا سیزن عروج پر پہنچنے کے بیچ کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وادی میں بھیڑ بکریاں غیر معینہ مدت کے لیے درآمد بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ فیصلہ 22 جون کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران لیا گیا۔ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری معراج الدین گنائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مٹن ڈیلروں کو گزشتہ کئی ماہ سے پنجاب میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی، راجستھان، ہریانہ، امبالہ اور امرتسر سمیت مختلف منڈیوں سے کشمیر آنے والے مویشی بردار ٹرکوں سے غیر قانونی فیس وصول کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شَمبھو بارڈر اور مادھوپور میں ”بھتہ خوری“ کے تحت جموں و کشمیر میں مویشی لے جانے والے ٹرک ڈرائیوروں سے زبردستی غیر قانونی رقم وصول کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان غیر مجاز وصولیوں کے باعث انہیں مسلسل مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔گنائی کے مطابق پنجاب میں بعض مقامات پر ٹھیکہ داروں اور مقامی عناصر کی جانب سے ہر ٹرک سے 20 ہزار سے 30 ہزار روپے تک کی رقم وصول کی جاتی ہے۔ ایسوسی ایشن نے دعوی کیا کہ اسکی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران تاجروں سے تقریباً 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔مٹن ڈیلروں کے مطابق جموں و کشمیر میں روزانہ تقریباً 50 ٹرکوں کے ذریعے پانچ ہزار سے زائد بھیڑ بکریاں مختلف ریاستوں سے لائی جاتی ہیں۔ ان جانوروں پر وادی کی گوشت کی ضروریات کا بڑا انحصار ہے۔تاہم ہڑتال کے اعلان کے بعد وادی میں سینکڑوں شادیاں ملتوی ہونے کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔سرکاری اور تجارتی اعداد و شمار کے مطابق وادی میں سالانہ 60 ہزار ٹن سے زائد مٹن استعمال کیا جاتا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً چار ہزار کروڑ روپے بنتی ہے۔معراج الدین گنائی نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر حکومت کیساتھ یہ معاملہ کئ بار اٹھایا لیکن اس پر کوئی بھی قدم نہیں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اب تک صرف یقین دہانیاں ہی موصول ہوئی ہیں جبکہ زمینی سطح پر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
سوموار کے روز غیر معینہ ہڑتال کی کال کے بعد مٹن ڈیلرز کے وفد نے کابینہ وزیر ستیش شرما سے اس معاملے پر ملاقات بھی کی تھی لیکن تادم تحریر اس حوالے سے کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ معراج الدین گنائی کے مطابق ستیش شرما نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یہ معاملہ وزیر اعلی عمر عبداللہ کیساتھ اٹھائیں گے لیکن اب تک کوئی بھی مثبت جواب نہیں ملاہے۔
ادھر پیپلز پلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی بھی یہ معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھگونت مان کیساتھ اٹھایا۔ انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کشمیر کے مٹن تاجر پنجاب کے مادھوپور اور شمبھو بارڈر پر مویشیوں کی نقل و حمل کے دوران ’’کیٹل فیئر ایکٹ‘‘ کے نام پر روکے جا رہے ہیں اور انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان جی سے کشمیری مٹن تاجروں کے بارے میں بات کی، جنہیں مبینہ طور پر مادھوپور اور شمبھو بارڈر پر روکا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘‘
کشمیر کے مٹن ڈیلرز اسکو جبری وصولی کیوں قرار دیتے ہیں؟؟
دراصل پنجاب کیٹل ٹریڈ اینڈ فئیر ایکٹ 1965 ایک قانون ہے جو پنجاب میں مویشیوں کی خرید و فروخت، مویشی منڈیوں کے انتظام کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت مویشی تجارت کو منظم بنانے، منڈیوں کی نگرانی کرنے اور مقررہ فیس یا ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
کشمیر کے مٹن ڈیلرز کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف پنجاب کے اندر ہونے والی مویشی تجارت پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ جموں و کشمیر منتقل کیے جانے والے مویشی صرف پنجاب سے گزرتے ہیں، اس لیے ان پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب کیٹل ٹریڈ اینڈ فیئر ایکٹ 1965 کے تحت دو فیصد ٹیکس صرف پنجاب میں خرید و فروخت ہونے والے مویشیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، ان کے بقول، پنجاب میں بعض عناصر، ٹھیکہ دار اور مبینہ طور پر مقامی اہلکار ٹیکس کے نام پر مویشی بردار گاڑیوں سے رقم وصول کر رہے ہیں جوکہ غیر قانونی ہے۔
اب غیر معینہ مدت کی ہڑتال کال سے اس وقت ایسوسی ایشن کے مطابق صرف چند روز کے لیے میویشی سٹاک موجود ہے۔ گزشتہ برس بھی ایسوسی ایشن کی طرف سے جولائی میں کئ روز تک ہڑتال کی گئی تھی لیکن تب بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔






