امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 29 جون: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر سال 2030 تک برآمدات کو دوگنا کرنے کا ہدف حاصل کرنا ہے تو خطے میں نئے برآمد کنندگان تیار کرنے، برآمدی مصنوعات میں تنوع لانے اور برآمدی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقدہ جموں و کشمیر انٹرنیشنل بائر-سیلر میٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے جو اس وقت صرف مقامی یا ملکی سطح پر کاروبار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس بین الاقوامی خریداروں، برآمد کنندگان، صنعت کاروں، دستکاروں اور سیلف ہیلپ گروپس کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ماضی میں کشمیر کی دستکاری اور دیگر مصنوعات کے خریدار خود سیاحوں کی صورت میں یہاں آتے تھے، لیکن حالات میں تبدیلی اور سیاحت میں کمی کے باعث کاروباری ماڈل بھی تبدیل ہو گیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر کی تقریباً 98 فیصد برآمدات صرف چار اضلاع سے ہوتی ہیں، جبکہ باقی تمام اضلاع کا حصہ محض 2 فیصد ہے، جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں ڈرائی پورٹ قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدی عمل آسان ہوگا اور یہاں سے ہونے والی برآمدات کا اندراج کسی دوسری ریاست کے بجائے جموں و کشمیر کے کھاتے میں ہوگا۔
پنجاب میں کشمیری گوشت تاجروں کے خلاف کارروائی پر اعتراض
تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے پنجاب میں جموں و کشمیر کے مٹن (گوشت) تاجروں کے خلاف کارروائی کو "غیر منصفانہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وہ مسلسل پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے رابطے میں ہیں اور ایک بار پھر انہیں خط لکھ کر مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، "ہمارے گوشت فروش صرف پنجاب کو گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہ وہاں سے مویشی نہیں خریدتے، اس لیے صرف ریاست سے گزرنے پر انہیں نشانہ بنانا درست نہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو اسے نارتھ زون اسٹیٹ کونسل میں اٹھایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مرکزی حکومت سے بھی مداخلت کی درخواست کی جائے گی۔
عمر عبداللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مقامی تاجروں، دستکاروں اور کاروباری افراد کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔





