امت نیوز ڈیسک //
دبئی، 28 جون: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے 10 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق فضائی کارروائی میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف واقع ایرانی فوجی نگرانی کے مراکز، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگوں سے متعلق صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تاہم متاثرہ مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو امریکہ مزید سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، جبکہ واضح کیا کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی ہو گئی ہے، جس سے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔




