امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے پیر کے روز بھارت کے انتخابی عمل کو عالمی سطح کے لیے قابل تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بھارت عالمی انتخابی عمل میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور شفاف انتخابی نظام کے معاملے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔” سی ای سی گیانیش کمار ان دنوں وادی کشمیر کے دورے پر ہیں۔
وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں بوتھ لیول افسران (بی ایل اوز) سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گیانیش کمار نے کہا کہ بھارت عالمی انتخابی سرگرمیوں میں اہم مقام رکھتا ہے اور سال 2026 کے لیے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (انٹرنیشنل آئیڈیا) کی سربراہی بھی بھارت کے پاس ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انہوں نے بڈگام کے بی ایل اوز سے ملاقات کی، جنہیں انہوں نے جمہوریت کے ستون قرار دیا۔ اس دوران انتخابی تیاریوں اور انتخابی نظام سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ووٹروں کی رجسٹریشن، پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار بھی بیک وقت اس عمل کا آڈٹ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا سب سے شفاف انتخابی نظام بھارت میں بی ایل اوز اور دیگر انتخابی عملے کی محنت سے تیار ہوتا ہے۔
گیانیش کمار نے بتایا کہ انہوں نے بی ایل اوز کو یہ بھی کہا کہ انتخابی طریقۂ کار کے لحاظ سے بھارت اس وقت دنیا کی بڑی جمہوری طاقتوں میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے بڈگام میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی) کے کیمپس میں انتخابی اہلکاروں سے ملاقات کی۔
چیف الیکشن کمشنر اتوار کو تین روزہ سرکاری دورے پر سرینگر پہنچے تھے۔ اس دوران وہ ووٹروں، انتخابی عمل سے وابستہ مختلف فریقوں، بوتھ لیول افسران اور فیلڈ سطح پر کام کرنے والے انتخابی عملے سے ملاقات کریں گے، جبکہ زمینی سطح پر جاری انتخابی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران وہ جموں و کشمیر کی خوبصورت وادیوں سے تعلق رکھنے والے ووٹروں سے ملاقات کریں گے اور خاص طور پر نچلی سطح پر کام کرنے والے انتخابی اہلکاروں کے ساتھ رابطے کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دیں گے۔
حکام کے مطابق، یہ دورہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ان مسلسل کوششوں کا ایک حصہ ہے جن کا مقصد ووٹروں اور انتخابی عمل سے وابستہ فریقوں کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنا، فیلڈ سطح پر تیاریوں کو بہتر بنانا اور جمہوری عمل میں عوامی شرکت اور بیداری کو فروغ دینا ہے۔




