امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، یکم جولائی: محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی اور سفارتی رابطے کا مرکز بنایا جائے۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے ساتھ بہتر تعلقات، عوامی روابط کے فروغ اور SAARC کی بحالی کی بھی وکالت کی۔
بدھ کو سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ دنیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں مختلف ممالک اپنی جغرافیائی اہمیت کو سفارتی اور اقتصادی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ جموں و کشمیر بھی ایسی ہی ایک اہم تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ہمیشہ مفاہمت، مذاکرات اور امن کی حامی رہی ہے اور جموں و کشمیر کو تنازعے کا میدان بنانے کے بجائے امن، تجارت اور عوامی روابط کا پل بنایا جانا چاہیے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کا ایک اہم موقع موجود ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی ہمسایہ ممالک سے متعلق پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیرپا امن ہی حقیقی سیاسی کامیابی کی علامت ہے۔
انہوں نے لداخ سے تاریخی تجارتی مراکز خوتان، یارکند اور کاشغر تک راستے دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر کو جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم گیٹ وے بنایا جا سکتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے سیاسی مسائل حل نہیں ہوئے اور جموں و کشمیر کے عوام آج بھی خود کو محرومی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے ساتھ بہتر تعلقات اور علاقائی رابطوں کی بحالی سے جموں و کشمیر کی معیشت، سیاست اور مجموعی ترقی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔





