امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 6 جولائی: میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ پانچ ہزار سال پر محیط ایک عظیم تہذیبی، ثقافتی اور روحانی ورثے کا حامل خطہ ہے، جسے کسی مخصوص بیانیے کے مطابق پیش نہیں کیا جا سکتا۔
لال چوک میں ایک تعلیمی مشاورتی مرکز کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے امرناتھ یاترا، کتابوں پر پابندی اور بھارت۔پاکستان تعلقات سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ امرناتھ یاترا ایک مذہبی فریضہ ہے اور کشمیری عوام ہمیشہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات کا احترام کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ یاتریوں کی حفاظت اور سہولیات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو اور کشمیر کے نازک ماحول کا بھی تحفظ کیا جائے۔
کتابوں پر پابندی کے حوالے سے میرواعظ نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں کتابوں، نظریات یا تنظیموں پر پابندیاں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا پانچ ہزار سالہ تہذیبی ورثہ بدھ مت، شیو مت، ہندو روایات اور اسلامی دور سمیت مختلف ادوار پر مشتمل ہے، جبکہ 1947 کے بعد کی سیاسی تاریخ بھی اس کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کا صرف وہ حصہ پیش کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور مختلف آراء کے احترام سے ترقی کرتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندیوں سے۔
بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ وہ اپنے والد شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق کی شہادت کے بعد سے امن، مذاکرات اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی سیاست کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پائیدار امن کے لیے دہلی اور اسلام آباد کے درمیان، نیز دہلی اور سری نگر کے درمیان بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔






