شیخ فرحت
ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیاں، برف سے ڈھکے پہاڑ، بل کھاتی ندیاں، شفاف چشمے اور سرسبز وادیاں صرف دلکش مناظر نہیں بلکہ قدرت کی وہ امانت ہیں جنہیں محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح اور یاتری ان مقدس راستوں کا سفر کرتے ہیں۔ کوئی روحانی سکون کی تلاش میں آتا ہے، کوئی قدرت کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے، اور کوئی ان دونوں نعمتوں کو ایک ساتھ محسوس کرنے کے لیے۔ مگر یہ خوشی اس وقت ادھوری رہ جاتی ہے جب واپسی پر انہی راستوں پر پلاسٹک کی بوتلیں، کھانے کے خالی پیکٹ اور ہر طرف بکھرا ہوا کچرا نظر آتا ہے۔
قدرت ہمیں ہمیشہ خاموشی سے دیتی ہے۔ صاف پانی، ٹھنڈی ہوا، سرسبز پہاڑ اور بے مثال خوبصورتی۔ بدلے میں وہ ہم سے صرف اتنی سی درخواست کرتی ہے کہ اسے نقصان نہ پہنچائیں۔ افسوس کہ بعض اوقات چند لمحوں کی لاپرواہی اس خوبصورتی کو برسوں کا نقصان پہنچا دیتی ہے۔
ہمالیہ کا ماحولیاتی نظام انتہائی نازک ہے۔ یہاں کی مٹی، پودے، جنگلی حیات اور آبی ذخائر معمولی آلودگی سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ جو پلاسٹک ہم بے فکری سے راستے میں پھینک دیتے ہیں، وہ برسوں تک وہیں موجود رہتا ہے، پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرتا ہے، جانوروں کے لیے خطرہ بنتا ہے اور بالآخر اسی ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے جس سے لطف اٹھانے ہم یہاں آئے ہوتے ہیں۔
مقدس غار کی جانب جانے والے راستوں پر بہتے چشمے اور ندی نالے صرف پانی کے ذرائع نہیں بلکہ ان پہاڑوں کی زندگی ہیں۔ یہی پانی مقامی آبادی، جنگلی حیات اور اس پورے ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھتا ہے۔ اگر یہی پانی آلودہ ہو جائے تو اس کا نقصان صرف ایک موسم یا ایک علاقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والے برسوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔
اس لیے ہر یاتری اور سیاح کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پانی میں پلاسٹک، کھانے کا بچا ہوا سامان یا کسی بھی قسم کا کچرا پھینکنا صرف ماحول کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایک مقدس مقام کے تقدس کو بھی مجروح کرنا ہے۔ قدرتی چشموں میں صابن، شیمپو یا دیگر کیمیائی اشیا کا استعمال بھی مناسب نہیں، کیونکہ صاف دکھائی دینے والا پانی بھی اس سے آلودہ ہو سکتا ہے۔
ہمیں ایک بہت سادہ اصول اپنانے کی ضرورت ہے: “جو چیز اپنے ساتھ لائیں، اسے واپس بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔” اگر ہر آنے والا صرف اس ایک اصول پر عمل کر لے تو ان حسین راستوں کی بڑی حد تک حفاظت کی جا سکتی ہے۔ راستے میں نصب ڈسٹ بن کا استعمال کریں، پلاسٹک کا استعمال کم کریں، اور اگر کہیں کچرا نظر آئے تو اسے اٹھانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ ماحول کی حفاظت صرف حکومت یا صفائی عملے کی ذمہ داری نہیں، یہ ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو ان پہاڑوں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
یقیناً انتظامیہ اور شرائن بورڈ پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مناسب تعداد میں ڈسٹ بن نصب کیے جائیں، صفائی کا مؤثر نظام قائم رکھا جائے، گھوڑوں اور خچروں کے فضلے کو آبی ذخائر تک پہنچنے سے روکنے کے انتظامات کیے جائیں، اور مختلف مقامات پر ایسے آگاہی بورڈ نصب ہوں جو لوگوں کو صفائی اور ماحول کے تحفظ کی اہمیت یاد دلاتے رہیں۔ مگر سب سے مؤثر قانون وہی ہوتا ہے جو انسان اپنے ضمیر کے تحت خود نافذ کرے۔
آج جب موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں نے ہمالیہ کے ماحول کو پہلے ہی خطرات سے دوچار کر رکھا ہے، تو ہماری ذرا سی بے احتیاطی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ سیاحت اور یاترا کو صرف سفر نہ سمجھا جائے بلکہ ایک ذمہ داری بھی سمجھا جائے۔
اگر ہم واقعی ان مقدس مقامات کا احترام کرتے ہیں تو اس احترام کا بہترین اظہار یہی ہے کہ انہیں صاف، شفاف اور محفوظ رکھیں۔ جب ہم واپس لوٹیں تو ہمارے قدموں کے نشانات تو رہ جائیں، مگر ہمارے پیچھے کچرا نہ رہ جائے۔
قدرت ہماری ملکیت نہیں، ہماری امانت ہے۔ اگر ہم نے آج اس امانت کی حفاظت کی تو آنے والی نسلیں بھی انہی شفاف چشموں، انہی سرسبز وادیوں اور انہی برف پوش پہاڑوں کا حسن اسی طرح دیکھ سکیں گی جیسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ یہی ایک مہذب معاشرے، ذمہ دار سیاح اور باشعور یاتری کی اصل پہچان ہے۔







