انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لیے دیا گیا کہ اس کے اندر احساس محبت ہمدردی رحم اور ایثار جیسی عظیم صفات موجود ہیں. یہی صفات انسان کو دوسرے انسانوں کے قریب لاتی ہیں اور ایک خوبصورت معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں لیکن افسوس کہ آج کا دور ایسی تلخ حقیقتوں سے بھرا ہوا ہے جہاں انسانیت آہستہ آہستہ مفاد پرستی کے اندھیروں میں گم ہوتی جا رہی ہے. لوگ ایک دوسرے کو انسان سمجھنے کے بجائے اپنے فائدے اور نقصان کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں رشتوں کی حرارت کم ہو رہی ہے اور دلوں میں خود غرضی کے سائے بڑھتے جا رہے ہیں.
کبھی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے تھے جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے تھے اگر کسی گھر میں مصیبت آتی تو پورا محلہ اس کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا. اگر کسی کے گھر چولہا نہ جلتا تو کئی گھروں سے کھانا پہنچ جاتا تھا اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرنے والوں کی کمی نہ ہوتی مگر آج حالات بدل چکے ہیں. اب لوگ دوسروں کی تکلیف سن کر افسوس تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر مدد کے لیے آگے نہیں بڑھتے ان کے پاس ہر چیز کے لیے وقت ہے مگر انسانیت کے لیے وقت نہیں.
مفاد پرستی نے انسان کو اس قدر خود غرض بنا دیا ہے کہ وہ ہر تعلق میں اپنا فائدہ تلاش کرتا ہے اگر کسی سے دوستی ہے تو اس لیے کہ کل کو اس سے کوئی کام نکل سکتا ہے. اگر کسی سے تعلق قائم کیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی ذاتی مقصد ہوتا ہے جب تک فائدہ حاصل ہوتا رہے تعلق قائم رہتا ہے اور جیسے ہی مفاد ختم ہوتا ہے تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں سچے اور مخلص رشتے بہت کم رہ گئے ہیں.
زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جنہیں ہم اپنا سمجھتے ہیں. انسان اپنی زندگی کے قیمتی لمحات دوسروں کے لیے قربان کرتا ہے ان کے دکھوں میں شریک ہوتا ہے ان کے لیے دعائیں کرتا ہے لیکن جب خود مشکل وقت کا شکار ہوتا ہے تو اکثر وہی لوگ کہیں نظر نہیں آتے. ایسے لمحے انسان کے دل کو اندر سے توڑ دیتے ہیں اور اسے احساس ہوتا ہے کہ شاید اس دنیا میں خلوص کی قیمت بہت کم رہ گئی ہے.
مفاد پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے انسانوں کے درمیان اعتماد کو ختم کر دیا ہے آج لوگ ایک دوسرے پر آسانی سے بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان کا اعتماد کسی ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کر لیا جائے. جب اعتماد ختم ہو جائے تو رشتے صرف نام کے رہ جاتے ہیں۔ دلوں کی قربت ختم ہو جاتی ہے اور معاشرہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے.
ہمارے معاشرے میں بے شمار یتیم بچے ایسے ہیں جو محبت اور توجہ کے محتاج ہیں بہت سی بیوائیں ایسی ہیں جو اپنے بچوں کی پرورش کے لیے دن رات جدوجہد کر رہی ہیں۔ بہت سے بوڑھے والدین ایسے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کے لیے قربان کر دی لیکن آج وہ تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. افسوس کہ ان کی مدد کرنے کے بجائے اکثر لوگ اپنی آسائشوں اور خواہشات میں مگن رہتے ہیں۔ یہی مفاد پرستی کا وہ چہرہ ہے جو انسانیت کو زخمی کرتا ہے.
سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی انسانیت عجیب امتحان سے گزر رہی ہے۔ لوگ دوسروں کے دکھوں کو محسوس کرنے کے بجائے انہیں صرف ایک خبر یا تصویر سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں. کسی کی غربت کسی کی بیماری یا کسی کی بے بسی کو دیکھ کر مدد کرنے کے بجائے صرف تبصرے کیے جاتے ہیں انسانیت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف کو محسوس کریں اور جہاں تک ممکن ہو ان کے کام آئیں.
مفاد پرستی نے خاندانی نظام کو بھی متاثر کیا ہے وہ خاندان جو کبھی محبت اور اتحاد کی مثال ہوتے تھے آج چھوٹی چھوٹی باتوں پر تقسیم ہو رہے ہیں. جائیداد دولت اور ذاتی مفادات نے بھائی کو بھائی سے اور رشتہ دار کو رشتہ دار سے دور کر دیا ہے جہاں محبت ہونی چاہیے وہاں نفرت جنم لے رہی ہے جہاں احترام ہونا چاہیے وہاں انا اور خود غرضی نے جگہ بنا لی ہے.
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ انسانیت اور اخلاقیات سیکھنا بھی ہے لیکن افسوس کہ آج بہت سے لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انسانی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں. وہ بڑے عہدوں اور اعلیٰ مرتبوں تک تو پہنچ جاتے ہیں مگر دلوں میں انسانیت پیدا نہیں کر پاتے. اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا سکھائے اور اسے معاشرے کے لیے مفید بنائے.
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو خاموشی سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کوئی غربت کے ہاتھوں مجبور ہے کوئی بیماری سے لڑ رہا ہے کوئی تنہائی کا شکار ہے اور کوئی ناانصافی کی چکی میں پس رہا ہے ان لوگوں کو ہماری ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہے. لیکن مفاد پرستی نے ہمیں اتنا مصروف کر دیا ہے کہ ہم دوسروں کے درد کو محسوس ہی نہیں کر پاتے
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے ہمیشہ ترقی کرتے ہیں جہاں انسانیت کو اہمیت دی جاتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور اجتماعی بھلائی کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں. اس کے برعکس وہ معاشرے زوال کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں خود غرضی اور مفاد پرستی عام ہو جائے کیونکہ انسانیت کے بغیر ترقی صرف ایک کھوکھلا دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے.
اسلام نے بھی ہمیں ایثار محبت اور بھائی چارے کا درس دیا ہے ہمارے دین میں پڑوسی کے حقوق یتیموں کی کفالت مسکینوں کی مدد اور کمزوروں کی حمایت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے. ایک مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ مشکلات اگر ہم واقعی اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کریں تو معاشرے سے مفاد پرستی کے بہت سے اندھیرے ختم ہو سکتے ہیں.
انسانی زندگی بہت مختصر ہے۔ دولت شہرت عہدہ اور طاقت سب یہیں رہ جانے ہیں قبر میں نہ دولت ساتھ جائے گی نہ منصب اور نہ ہی دنیاوی مفادات۔ وہاں صرف ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ہوں گے. اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے فائدہ مند بنائیں کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا کسی مجبور کی مدد کرنا کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا اور کسی غمزدہ دل کو تسلی دینا وہ نیکیاں ہیں جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بناتی ہیں.
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا جائزہ لیں اور خود سے سوال کریں کہ کیا ہم بھی مفاد پرستی کے اس اندھیرے کا حصہ بن چکے ہیں کیا ہم دوسروں کے لیے ویسا ہی احساس رکھتے ہیں جیسا اپنے لیے رکھتے ہیں اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک بہتر معاشرہ صرف قانون سے نہیں بلکہ اچھے انسانوں سے بنتا ہے.
آئیے عہد کریں کہ ہم انسانیت کو مفاد پرستی پر ترجیح دیں گے ہم اپنے رشتوں کو خلوص محبت اور احترام کی بنیاد پر قائم کریں گے ہم ضرورت مندوں کی مدد کریں گے اور کمزوروں کا سہارا بنیں گے. ہم دوسروں کے لیے وہی پسند کریں گے جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں یہی وہ راستہ ہے جو ایک روشن اور پرامن معاشرے کی طرف لے جاتا ہے.
مفاد پرستی کے اندھیرے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں انسانیت کا ایک چراغ انہیں شکست دے سکتا ہے۔ اگر ہر انسان اپنے دل میں محبت ہمدردی اور ایثار کا ایک چراغ روشن کر لے تو معاشرہ دوبارہ روشنی سے بھر سکتا ہے. یاد رکھیے انسانیت کبھی مرتی نہیں بلکہ لوگوں کے رویوں میں چھپ جاتی ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے دوبارہ زندہ کریں اور اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم ابھی بھی انسان ہیں.
"جب انسان اپنے مفاد سے بلند ہو کر دوسروں کے درد کو محسوس کرنے لگے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ انسانیت کی روشن مثال بن جاتا ہے.”







