جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام اور شانگس میں بادل پھٹنے کے حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ وادی کشمیر موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں معمولی سی بے احتیاطی بھی بڑے سانحات کو جنم دے سکتی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس بار کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ہوٹلوں، مکانات، زرعی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ ایسے واقعات کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب کو محض ایک قدرتی آفت قرار دے کر نظر انداز کرنا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔ دنیا بھر میں ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں، بادل پھٹنے، گرمی کی لہروں، خشک سالی اور غیر متوقع موسمی واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمالیائی خطہ، جس میں کشمیر بھی شامل ہے، ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ گلیشیروں کا تیزی سے پگھلنا، بارشوں کے نظام میں تبدیلی اور درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ اس پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
تاہم موسمیاتی تبدیلی اپنی جگہ، یہ سوال بھی اپنی پوری اہمیت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا ہم نے خود اپنے قدرتی ماحول کو اس آفت کے لیے مزید حساس نہیں بنا دیا؟ پہلگام، جو کبھی اپنی قدرتی خوبصورتی، گھنے جنگلات اور شفاف ندی نالوں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا، آج بے ہنگم تجارتی سرگرمیوں، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور ماحولیاتی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ اگر ندی نالوں کے قدرتی بہاؤ پر تجاوزات ہوں، جنگلات کا رقبہ کم ہوتا جائے اور ہوٹل و دیگر عمارتیں ماحولیاتی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تعمیر کی جائیں تو بارش کا معمولی اضافہ بھی خطرناک سیلاب کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ تشویش ہے کہ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قوانین، تعمیراتی ضابطوں اور عوامی معلومات تک رسائی کے قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے مسلسل سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال جاری رہا اور متعلقہ ادارے شفافیت کو یقینی نہ بنا سکے تو ایسے سانحات محض موسمی حادثات نہیں رہیں گے بلکہ انسانی غفلت کی علامت بن جائیں گے۔
کشمیر کی معیشت بڑی حد تک سیاحت، باغبانی اور زراعت سے وابستہ ہے۔ اگر پہلگام، گلمرگ، سونہ مرگ اور دیگر حساس سیاحتی علاقوں کا ماحولیاتی توازن بگڑتا رہا تو اس کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار، سرمایہ کاری اور سیاحتی صنعت پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے ماحولیات کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی ضرورت بھی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے وقتی امدادی کارروائیوں تک خود کو محدود نہ رکھیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اختیار کریں۔ حساس علاقوں کی سائنسی بنیادوں پر نقشہ سازی، ندی نالوں کے قدرتی راستوں کی بحالی، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، جنگلات کے تحفظ، جدید موسمی پیش گوئی کے نظام اور عوامی آگاہی کو ترجیح دی جائے۔ اسی کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔
پہلگام کا حالیہ سانحہ محض ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر اس وارننگ کو بھی نظر انداز کیا گیا تو آنے والے برسوں میں قدرت کے سامنے ہماری بے بسی مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔ ترقی کی دوڑ میں قدرت کے اصولوں کو فراموش کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے سودمند نہیں ہوتا۔ کشمیر کی شناخت اس کے سرسبز جنگلات، بہتے چشموں اور دلکش وادیوں سے ہے، اور اگر ان قدرتی اثاثوں کی حفاظت نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں اس غفلت پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔





