جموں و کشمیر کی منتخب حکومت اور حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی جانب سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے لیے احتجاج کا اعلان ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ 2019ء میں ریاست جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد ریاست کا درجہ ختم کرکے اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے ریاستی درجہ کی بحالی نہ صرف ایک سیاسی مطالبہ بلکہ جمہوری نمائندگی، وفاقی توازن اور آئینی حقوق کے حوالے سے ایک بنیادی سوال بن چکا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ خود مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی متعدد مواقع پر جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر دوبارہ ریاستی درجہ دینے کا عندیہ دے چکے ہیں، جبکہ حکومتِ ہند نے سپریم کورٹ میں بھی اس حوالے سے یقین دہانی کرائی تھی کہ ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں دسمبر 2023ء میںسپریم کورٹ نے بھی توقع ظاہر کی تھی کہ مرکزی حکومت اس یقین دہانی کو عملی جامہ پہنائے گی۔
نیشنل کانفرنس کا یہ مؤقف اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کسی سیاسی جماعت پر احسان نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ منتخب اسمبلی اور عوامی نمائندوں کو مکمل انتظامی اور قانون ساز اختیارات حاصل ہونا وفاقی جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ خود حکومتِ ہند کر چکی ہے تو اس میں مزید تاخیر غیر ضروری سیاسی بے یقینی کو جنم دیتی ہے۔
تاہم اس احتجاج نے کئی اہم سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج کا یہ مرحلہ بہت تاخیر سے اختیار کیا گیا؟ نیشنل کانفرنس نے 2024ء کے اسمبلی انتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے، ان میں ریاستی درجہ کی بحالی کے علاوہ خصوصی آئینی حیثیت، روزگار، بجلی، فلاحی اسکیموں اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے وعدے بھی شامل تھے۔ اپوزیشن جماعتیں اسی بنیاد پر حکومت پر تنقید کر رہی ہیں کہ اگر ریاستی درجہ اولین ترجیح تھا تو اس کے لیے پہلے دن سے ہمہ گیر عوامی اور سیاسی مہم چلائی جانی چاہیے تھی۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ریاستی درجہ کی بحالی کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اگر اس مطالبے کو قومی سطح پر مؤثر بنانا ہے تو صرف پارٹی کارکنوں کی ریلیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، تجارتی تنظیموں، وکلاء، دانشوروں، نوجوانوں اور خطے کے تمام علاقوںکی نمائندگی پر مشتمل ایک وسیع اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو دیگر آئینی اور سیاسی مطالبات سے الگ یا ان کا متبادل نہ بنایا جائے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے نظریاتی مؤقف ہو سکتے ہیں، لیکن کم از کم ریاستی درجہ کی بحالی پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر عوامی حقوق کے معاملے پر سیاسی ہم آہنگی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
ادھر اپوزیشن کی یہ تنقید بھی قابلِ غور ہے کہ احتجاج کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپنی انتظامی کارکردگی، عوامی وعدوں اور روزمرہ مسائل کے حل پر بھی یکساں توجہ دینی چاہیے۔ عوام کسی بھی حکومت کو صرف احتجاج کے لیے نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، شفاف انتظامیہ اور ترقیاتی نتائج کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ اگر عوامی مسائل جوں کے توں رہیں تو سیاسی احتجاج کی اخلاقی قوت بھی متاثر ہوتی ہے۔
احتجاج اگر عوامی اتفاقِ رائے، آئینی جدوجہد اور سنجیدہ سیاسی سفارت کاری کے ساتھ آگے بڑھے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات زیادہ روشن ہوں گے۔
ریاستی درجہ کی بحالی کا معاملہ کسی ایک جماعت کی سیاسی کامیابی یا ناکامی کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے جمہوری مستقبل سے وابستہ ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے تمام فریقوں کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔






