کشمیر کی پہچان کبھی اس کی دلکش وادیوں، گھنے جنگلات، برف پوش پہاڑوں، چشموں اور معتدل آب و ہوا سے تھی۔ دنیا اسے ’’روئے زمین کی جنت‘‘ کہتی تھی، مگر آج یہی جنت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی زد میں ہے۔ موسموں کا توازن بگڑ چکا ہے۔ گرمیوں کی شدت ہر سال نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، سردیوں کی برف باری سکڑتی جا رہی ہے، بے وقت بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں اور کبھی خشک سالی تو کبھی اچانک سیلاب جیسی صورتحال عوام اور معیشت دونوں کو پریشان کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض قدرتی تغیر ہے، یا ہم اپنی بے احتیاطیوں سے اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدہ گفتگو اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی آفت سر پر آ کھڑی ہوتی ہے۔ گرمی کی لہر آئے تو چند دن شور مچتا ہے، سیلاب آئے تو ہنگامی اجلاس منعقد ہوتے ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے، اور کشمیر اس کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کرنے والے خطوں میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔
سرینگر کو اسمارٹ سٹی بنانے کا خواب دکھایا جا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شہر اپنے درختوں، باغات اور سبز پٹیوں کو ختم کرکے واقعی ’’اسمارٹ‘‘ بن سکتا ہے؟ گزشتہ برسوں کے دوران سڑکوں کی توسیع اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہزاروں درخت کاٹے گئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان درختوں کا مؤثر متبادل آج تک نظر نہیں آتا۔ کنکریٹ، ڈامر اور سیمنٹ کے جنگل تو تیزی سے کھڑے ہو رہے ہیں، مگر وہ درخت کہاں ہیں جو گرمی کو کم کرتے، آلودگی کو جذب کرتے، پرندوں کو پناہ دیتے اور شہر کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے تھے؟ اگر سرینگر اپنی سبز شناخت کھو بیٹھا تو اسمارٹ سٹی کا دعویٰ صرف اشتہارات اور سرکاری فائلوں تک محدود رہ جائے گا۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کشمیر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلی کو شاید ہی کوئی اہمیت دی جا رہی ہو۔ نئی شاہراہیں، سرنگیں، ریل لائن کے منصوبے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن کیا ان منصوبوں کی منصوبہ بندی میں بدلتے موسم، بڑھتے درجہ حرارت، بارشوں کے نئے پیٹرن، زمینی کٹاؤ اور ماحولیاتی حساسیت کو بنیادی حیثیت دی جا رہی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم آج کی ترقی کی قیمت کل کی تباہی کی صورت میں ادا کرنے جا رہے ہیں۔
ترقی اور ماحولیات کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنے کی سوچ اب متروک ہو چکی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہر بڑے منصوبے سے پہلے موسمیاتی اثرات، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی پائیداری کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کشمیر میں اکثر منصوبوں کا پیمانہ صرف رفتار اور لاگت بن کر رہ گیا ہے، جبکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ اس روش کے نتائج مستقبل میں زیادہ شدید لینڈ سلائیڈنگ، پانی کی قلت، درجہ حرارت میں مزید اضافے اور قدرتی آفات کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر شجرکاری، شہری جنگلات کے قیام، جھیلوں اور آبی ذخائر کے تحفظ، اور موسمیاتی موافقت پر مبنی منصوبہ بندی کو لازمی جزو بنائے۔ صرف نمائشی مہمات سے ماحول محفوظ نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کاٹے گئے درخت کے بدلے کئی نئے درخت لگائے جائیں، ان کی نگہداشت کی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں سبز رقبے کو قانونی تحفظ دیا جائے۔
کشمیر قدرت کا ایک نادر عطیہ ہے۔ اس کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ فرض ہے۔ اگر آج بھی ہم نے موسمیاتی تبدیلی کو محض ایک وقتی بحث سمجھ کر نظرانداز کیا تو کل نہ صرف ہماری معیشت، زراعت اور سیاحت متاثر ہوگی بلکہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال بھی کریں گی کہ جب خطرہ واضح تھا تو ہم نے اپنی اس جنت کی حفاظت کے لیے کیا کیا؟
یہ وقت نعروں کا نہیں، سنجیدہ فیصلوں کا ہے۔ ترقی ضرور ہونی چاہیے، مگر ایسی ترقی جو کشمیر کے سبز وجود، قدرتی حسن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی محافظ بھی ہو۔ یہی حقیقی ترقی ہے، اور یہی ہمارے حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کا اصل امتحان بھی۔






