امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 17 جولائی: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی جنتر منتر، نئی دہلی میں جاری بھوک ہڑتال کے معاملے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ جنتر منتر کے مناظر انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں سونم وانگچک اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منظر بھارت کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ برطانوی راج ختم ہو چکا ہے، لیکن نوآبادیاتی ذہنیت آج بھی برقرار محسوس ہوتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا کہ ایک جمہوری حکومت آخر کیوں جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے بات چیت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
پی ڈی پی صدر نے مزید کہا کہ جن نوجوانوں کی آواز کو آج نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہی مستقبل میں ملک کی سمت اور تقدیر کا تعین کریں گے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے سنے اور ان سے مذاکرات کرے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد طلبہ بھی احتجاج میں شریک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔






