امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 25 جولائی:مرکزی حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے درمیان تیسرے دور کے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد 36 روز سے جاری ملک گیر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ آئین کلب، نئی دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان سورَو داس اور آشوتوش رانکا نے کہا کہ حکومت نے تحریک کے اہم مطالبات پر مثبت یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد "نیک نیتی” کے تحت احتجاج فوری طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ استعفیٰ نامے میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں کے واقعات پر انہیں گہرا دکھ ہے اور قومی اتحاد کے مفاد میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ احتجاج کے دوران درج مقدمات واپس لینے کے لیے حکومت اقدامات کرے گی، جبکہ نیٹ پرچہ لیک معاملے سے منسلک خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو قواعد کے مطابق مالی معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سی جے پی کے پانچ نکاتی امتحانی اصلاحاتی منشور پر بھی غور کرے گی اور آئندہ چار ہفتوں میں مزید مذاکرات ہوں گے۔
سی جے پی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حکومت نے اس کے تمام بنیادی مطالبات قبول کر لیے ہیں، جن میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینا، امتحانی نظام میں اصلاحات پر بات چیت اور متاثرہ خاندانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ممکنہ معاوضہ شامل ہے۔ تاہم تنظیم نے کہا کہ ایک کروڑ روپے معاوضہ، تمام طلبہ مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی تحریری ضمانت، اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) و دہلی پولیس کی عوامی معافی جیسے مطالبات ابھی زیر التوا ہیں۔
ادھر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب حکومت کو تعلیمی نظام میں حقیقی اصلاحات کرنی ہوں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ طلبہ کے خلاف تشدد کے ذمہ دار ہیں اور کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دوسری جانب بی جے پی صدر نتن نبین، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور مرکزی وزیر کرن رجیجو نے دھرمیندر پردھان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 سمیت کئی اہم اصلاحات نافذ کیں اور ان کا استعفیٰ اعلیٰ سیاسی اخلاقیات کی مثال ہے۔
احتجاج کے خاتمے کے بعد نئی دہلی کے جنتر منتر اور اطراف میں حالات معمول پر آنے لگے، جبکہ دہلی میٹرو نے بند کیے گئے متعدد اسٹیشن دوبارہ کھول دیے اور ٹریفک کی صورتحال بھی بتدریج بہتر ہونے لگی۔






