امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، سماجی کارکن سونم وانگچک نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ سے ملاقات کے بعد 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر مزید سخت اقدامات اور تیز رفتار عدالتوں کے قیام کی یقین دہانی کے بعد وانگچک نے اپنا روزہ ختم کیا۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے واضح کیا ہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے وانگچک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، تاہم احتجاج بدستور جاری رہے گا۔
ادھر دہلی پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ پولیس رات کے وقت احتجاج ختم کرا سکتی ہے۔ پولیس نے کہا کہ جنتر منتر پر جاری دھرنے کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور گمراہ کن معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
اس دوران کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر حکمتِ عملی اجلاس کے بعد تیئس جنوری مارگ پر واقع مہاتما گاندھی کی سمادھی پہنچے، جہاں انہوں نے طلبہ کے حق میں احتجاج کیا۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت بات چیت کے لیے ہر وقت تیار ہے اور طلبہ کے نمائندوں کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے، تاہم سی جے پی نے دوبارہ واضح کیا کہ مذاکرات صرف جنتر منتر کے قریب کسی غیر جانبدار مقام پر ہی ہوں گے۔
سی جے پی نے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے عوام، طلبہ تنظیموں اور سماجی اداروں سے پولیس تشدد کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کی درخواست کی ہے۔
اس سے قبل ابھیجیت دیپکے نے بخار اور جسم میں درد کے باعث چند گھنٹوں کے لیے احتجاجی مقام سے دور رہنے کا اعلان کیا تھا، تاہم شام تک واپس آنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف تیز رفتار عدالتیں قائم کی جائیں گی اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دھرمیندر پردھان کے استعفے، طلبہ سے معافی اور مظاہرین پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا جنتر منتر پر سی جے پی کا دھرنا مسلسل جاری ہے جبکہ پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ حکومت نے بحث کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اپوزیشن وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہے۔ سونم وانگچک نے اگرچہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم سی جے پی کا احتجاج بدستور جاری ہے۔






