مجھے آج بھی واضح طور پر وہ دن یاد ہے جب ہمیں پہلی بار ٹرین میں سفر کرنے کا موقع ملاتھا۔ یہ وہ مہینہ تھا جب کشمیر میں پہلی بار ٹرین چلائی گئی تھی۔ یہ ہمارےلیے ایک خوشگوار موقع تھا کیونکہ ہمارے اسکول نے بچوں کو ٹرین میںسیر کروانے کےلیےلے لیا تھا ۔ سرینگر ریلوے اسٹیشن پر ٹرین میں سوار ہونے سے پہلے ہمارے اساتذہ نے ہمارے لئے ٹِکٹ خریدی۔ ہم نے اس سےپہلے کبھی اپنے سامنے ٹرین کو ذاتی طور پر نہیں دیکھا تھا، سوائے ٹیلی ویژن کے۔ جب ٹرین اسٹیشن پر پہنچی اس نے ہارن بجایا، اس نے تمام بچوں کو خوش کر دیا اور ہم سب بچوں کے چہرے کھل اُٹھے ۔ جوں ہی ٹرین چلنے لگی تو ہمارے اساتذہ نےاس کا خاکہ بچوں کے سامنے کھینچ دیا،اس کی خصوصیات اور وضاحتیںکہ لاؤڈ سپیکر کے ساتھ اس پر ڈیجیٹل میٹر نصب کیے گئےہیں اور وہ بلند آواز میں ضروری احتیاط یا سفارشات کا اعلان کرتے ہیں، جیسا کہ ’’براہ کرم خواتین کے لیے نشستیں خالی کریں۔‘‘
چند سالوں کے بعد، میں ٹرین میں پھر سےسوار ہوا اور ڈیجیٹل میٹروں کی کمی، چارجنگ کنکشن کے ہٹائے جانے، سیٹوں کے گندے ڈھانچے اور سیٹوں پر بے شمار احمقانہ تحریروں کی وجہ سے ٹرین کی حالت دیکھ کر بری طرح چونکا اور حیران ہوا۔ ٹرین دھول سے ڈھکی ہوئی تھی اور لوگوں کی کھائی جانے والی کوکیز، چاکلیٹ اور لیز کے لفافوں سے بھری ہوئی تھی، اور کچھ الیکٹرک سائن بورڈز بھی ہٹا دیے گئے تھے، پاؤں کی پٹیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہم کتنے غیر مہذب ہیں!!یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کشمیر کی ٹرین قابل رحم حالت میںہے۔ساتھ ہی یہ سوچنے کی بات ہے کہ ٹرینوں کی غلیظ حالت اور خستہ حالی کا ذمہ دار کون ہے؟
اس ضمن میں محکمہ ریلوے کو بھی چاہیے کہ وہ ٹرین کی تزئین و آرائش کرے اور بجلی کے نظام جیسے پنکھے، چارجنگ پورٹس وغیرہ کو ٹھیک کرے۔ ٹرین میں سگریٹ نوشی وغیرہ جیسےممنوعہ حرکات کاتداک کیا جانا چاہیے ۔محکمہ ریلوے کی جانب سے ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے پیش قدمی اور ریلوے املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہیے۔سرینگر ریلوے اسٹیشن پر ایک اے ٹی ایم ہونا ضروری ہے، اور محکمہ ریلوے کو نوگام ریلوے اسٹیشن پر واش رومز کی افسوسناک حالت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
(مصنف گاندربل میں مقیم کالم نویس ہیں اور ایچ این بی گڑوال یونیورسٹی سے زوالوجی میں ایم ایس سی کر رہے ہیں۔)








