جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانا اور اس پر فیصلہ لینا الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کا م ہے۔جموںو کشمیر ایک ہمالیائی ریاست ہے اور ہماچل پردیش،اترا کھنڈ کی طرح یہاں کی ایک انچ زمین کسی باہر والے کو نہیں دی جاسکتی۔ میرواعظ عمر فاروق نظر بند نہیں بالکل آزاد ہیں ۔ جموں وکشمیر میں ہر کسی کو بولنے،لکھنے کی مکمل آزادی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک کی سالمیت اور ایکتا کے خلاف اس آزادی کا استعمال برداشت کیا جائے۔ میری پالیسی یہ ہے کہ کسی بے گناہ کو چھیڑو مت اور گناہ گار کو چھوڑو مت۔ ان باتوں کا اظہار جموں وکے لفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے انڈیا ٹوڈے گروپ کی ذیلی ویب پورٹل دی للن ٹاپ کے مدیر سورب دویدی کو دئے گئے اپنے ایک مفصل انٹرویو میں کیا جو15 اگست 2023ء کو نشر کیا گیا۔
للن ٹاپ کے ہفت روزہ سیاسی انٹرویو پروگرام جمگھٹ میں بات کرتے ہوئے منوج سنہا کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے پہلی بار سنا کہ انہیں جموں و کشمیر کا لیفٹیننٹ گورنر بنایا گیا ہے تو انہیں یہ عجیب لگا۔وہ اس کےلئے اگرچہ تیار نہیں تھے لیکن انہوں نے پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہاں آنا قبول کیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ انٹرویو میں ایل جی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنا نام آنے کے پیچھے کی کہانی سنائی، کشمیر میںعسکریت پسندی کے بڑھتے واقعات، ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ، ووٹ بینک کے معاملے میں باہر کے لوگوں کو آباد کرنے کے سوالات، ٹھگ سنجے پرکاش رائے شیرپوریا سے واقفیت،حریت لیڈران کی حراست،بے گھر لوگوں کو5 مرلہ زمین دینے کے معاملے وغیرہ پر کھل کر بات کی ۔
انٹرویو میں شری منوج سنہا نے بتایاکہ وہ اب تک قریب9بارلوک سبھاالیکشن لڑچکے ہیں۔1984،1991،1992،1998،1999،2004،2009 اور 2014 میں وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرپائے جبکہ متعدد بار انہیں ہار کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کی سیاست کا آغاز بنارس میں ایک طالب علم لیڈر کی حیثیت سے ہوا اور پہلی بار1982 میں وہ ودیارتھی پریشد کے الیکشن جیت کر صدر بن گئے تھے۔ حالانکہ وہ انجیئنرنگ کے طالب علم تھے اور ان کے آنجہانی والد ان کی سیاست میں آنے کے سخت خلاف تھے لیکن تقدیر کا کرنا یہ ہوا کہ طلبہ سیاست کے بعد ان کی عملی سیاست کاآغاز بھی بنارس سے ہوا ۔اگرچہ پہلی بار الیکشن لڑنے کا موقع انہیںاپنے آبائی ضلع غازی پور سے نصیب ہوا جس میں موصوف نے تقریباً 46 ہزار وٹ حاصل کئے۔ ایل جی کا کہنا تھا کہ2014ء کے الیکشن میں وہ میدان میں اترنا نہیں چاہتے تھے لیکن وزیر داخلہ امیت شاہ نے انہیں الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا۔انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کیسے بن گئے؟ اس فیصلے کے پیچھے کون تھا؟ اسکی پس پردہ کہانی کیا ہے؟اس سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ پوری طرح سے واقف نہیں ہیں کہ انہیں لیفٹیننٹ گورنر بنانے کا فیصلہ کیسے کیا گیا۔ انہوں نے کووڈ۔19کے دوران جون کے مہینے میں امیت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت امیت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد آرہے تھے،’’میں نے انہیں ایک سال پہلے انکے ساتھ کی گئی بات چیت کی یاد دلائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے پاس وقت ہے تو کوئی کام بھی دیا جائے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کو کام دیا جائے گا۔ بعد میں جب دہلی میں کووڈ کا اثر بڑھنے لگا تو میں بنارس چلا گیا۔ جولائی کا آخری ہفتہ تھا، امیت شاہ جی نے فون کیا، انہوں نے مجھے بلایا، میں نے ان سے بات چیت کی۔ بعد میں انہیں کووڈ ہو گیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں نے کووڈ ٹیسٹ بھی کرایا۔ میری رپورٹ منفی آئی ہے۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ امیت شاہ نے انہیں اسپتال سے ہی فون کیا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہیں۔ وہ کہنے لگے،’’میں دہلی آیا ہوں۔ بعد میں4اگست کو میں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ مجھے اس گفتگو سے تھوڑا سا اشارہ ملا اور6اگست 2020ءکو ایک نوٹیفکیشن آیا کہ مجھے مرمو صاحب کی جگہ جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے کا دوسرا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا ہے۔‘‘ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ کا لیفٹیننٹ گورنر بنایا جائے گا۔ جب انہوں نے پہلی بار یہ سنا کہ انہیں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ وہ ایسا بننا بھی نہیں چاہتےتھے۔ لیکن پارٹی کوئی ذمہ داری دیتی ہے تو سوچ سمجھ کر دیتی ہے، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ قبول کر لیا۔اس سوال پر کہ کیا2017ء میں انہیں یو پی کا وزیراعلیٰ بننے سے آر ایس ایس کے کسی ذمہ دار کے کہنے پر نہیں بنایا گیا تھا ،منوج سنہا کا جواب نفی میں تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں آنے کے معاً بعد پہلا چیلنج یہاں کووڈ بیماری کی انتظام تھا۔ کووڈ سے نمٹنے کےلئے میں نے فی الفور پیرا مڈیکل اسٹاف کو بڑھایا۔ پھر یہاں آکسیجن جنریشن پلانٹ لگوائے جس کی وجہ سے یہاں کسی مریض کو آکسیجن نہ ملنے کی شکایت نہ ہوئی۔ ہمارے کووڈ انتظام کی تعریف ممبئی ہائی کورٹ تک نے کی۔ ایل جی کا مذید کہناتھا کہ ان کے جموں وکشمیر آنے سے قبل ہی شوپیان میں راجوری کے تین بے گناہ شہریوں کا انکاونٹر ہوا تھا جس پر سوالات کھڑے کئے جارہے تھے۔ انہوں نے اس کی انکوائری کروائی،خود گاڑی میں راجوری گئے اور وہاں مارے گئے لوگوں کے خاندانوں کی ڈھارس بندھائی۔
ڈی ڈی سی چنائو بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں منوج سنہا کا کہناتھا کہ اس قسم کے انتخاب یہاں کبھی نہیں ہوئے تھے۔ہم نے یہ انتخابات کرائے۔ لوگوں نے ان میں بھر پور حصہ لیا اور ہم نے بھی منتخب اداروں کےلئے بھرپور فنڈ مہیا کردئے ۔ ہاں اس عمل میں کچھ کمیاں رہ گئی ہوں گی جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجائیں گی۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ سال1993 ء میں ملک بھر میں پنچائتی راج قانون بنا لیکن جموں وکشمیر میں یہ قانون2012ء میں آیا۔ آج32 ہزار سے زائد چنے ہوئے عوامی نمائندے کام کررہے ہیں جس سے زمینی سطح پر جمہوریت مضبوط ہورہی ہے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ دفعہ 370 ہٹانے کے بعد 24جون2021 کو وزیراعظم نریندر مودی نے آل پارٹی کانفرنس بلائی جس میں جموں وکشمیر کے چار سابق وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے۔ اس میٹنگ میں کہا گیا کہ جلد جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کراکے عوامی حکومت قائم کی جائے گی لیکن تب سے آج تک دو سال بیت گئے ہیں اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟ ایل جی منوج سنہا کا کہنا تھا کہ31 اکتوبر2019ء کو پارلیمان میں وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ پہلے نئی حد بندی کی جائے گی جس کے بعد الیکشن ہوں گے اور پھر جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ حد بندی ہوچکی ہے۔ نئے الیکٹورل رول بھی آگئے ہیں اب یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ اسمبلی الیکشن کرائیں۔ہاں یہ بات مدنظر رہے کہ جموںو کشمیر کے ضمن میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بھی دیکھنی پڑتی ہے۔ہاں میں ایک بات ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اربن لوکل باڈیز کے الیکشن وقت پر منعقد کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایل جی صاحب سے سوال کیا گیا کہ زبان کی بنیاد پرپہاڑیوں کو ریزرویشن زمرے میں لائے جانے کے خلاف گجر بکروال احتجاج کررہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ڈوگرہ ووٹ بینک تنگ ہوتا دیکھ کر اب انتظامیہ پہاڑی کمیونٹی کے ووٹ حاصل کرنے کےلئے ایسا کرنا چاہتی ہے۔ اس کو کئی لوگ منی پور جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش تک کہہ رہے ہیں۔ اس پر ان کا کیا کہنا ہے؟ ایل جی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر اور الزام سراسر غلط ہے۔ یہ قانون2019 میں بنا اور میں یقین دلاتا ہوں کہ گجر بکروال برادری کی ریزرویشن پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کے حصے میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیں آئے گی۔اس معاملے کو منی پور سے ملانا احمقانہ ہے۔
پیر پنچال سیکٹر میں بڑھتے ہوئے عسکری حملوں اور ان کے نئے طریقہ کار اور نمونے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں منوج سنہا کا کہنا تھا کہ یہ بات صحیح ہے کہ وادی کو قدرے پرامن دیکھ کر ہمارے مخالفین نے پیر پنچال سیکٹر یعنی راجوری و پونچھ میں اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ہم نے وادی کے اندر360 ڈگری اپروچ اپنا کر امن کو بحال کیا ہے اور اسی طرح کے اپروچ کے ساتھ راجوری پونچھ میں بھی اس معاملے سے نمٹیں گے۔
ٹارگٹ کلنگ کے ضمن میں ایل جی کا کہنا تھا کہ ہم نے انتہا پسندوں کے سبھی کمانڈرز کا صفایا کردیا ہے اس لئے اب یہ لوگ سافٹ ٹارگٹ پر حملہ آور ہورہے ہیں۔ یہ ان کی بزدلی ہے۔ ہم نے اس چیلنج سے بھی موثر طریقے پر نمٹا ہے ہم اب محض قاتل پر فوکس نہیں کررہے بلکہ ہماری ایجنسیاں این آئی اے، ایس آئی اے،ایس آئی یو بلکہ پورا سیکورٹی گرڈ ہر واقعے کا مکمل اور ہمہ گیر جائزہ لیتے ہیں تاکہ معاملے میں ملوث سب ذمہ داروں پر لگام کسی جاسکے۔ ہم نارکو دہشت گردی اور شدت پسندی کی سوچ پر لگام لگانے کےلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ہم نے یہاں سے اسٹریٹ تشدد کا خاتمہ کیا ہے،ہڑتال کلچر کو خیر باد کیا ہے،تنازعے کی اقتصادیات پر ضرب لگائی ہے، لاکھوں سیاحوں کی آمد کےلئے ماحول بنایا ہے جس سے عام انسانوں اور غریبوں کی مدد ہورہی ہے۔
میرواعظ محمد عمرفاروق کی نظر بندی اور انہیں جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنے پر کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایل جی کا کہنا تھا کہ میرواعظ بالکل آزاد شہری ہیں ۔وہ نظر بند نہیں ہیں ۔ہاں انکو سیکورٹی کے مسائل کا سامنا ہے ۔
محرم کے جلوس کی اجازت دینے پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں منوج سنہا کا کہنا تھا کہ انکے جموں وکشمیر کا چارج سنبھالنے کے بعد سے لگاتار شیعہ برادری کے وفود ان کے پاس آتے رہے کہ 34 سال سے پابند کئے گئے ان کے محرم کے جلوسوں پر سے پابندی ہٹائی جائے۔ اس سال ہم نے ان کے اکابرین سے بات کی اور انہیں کہا کہ اگر وہ یہ گارنٹی دیں کہ یہ جلوس پرامن رہیں گے اور یہ کہ ان میں کوئی بھارت مخالف نعرہ نہیں لگے گا تو اس کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا اور ہم نے اجازت دے دی۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ وہ ہر مذہبی پروگرام میں حصہ لیتے ہیں ۔امرناتھ یاترا ہو کہ درگاہ حضرت بل یا گردواروں کا دورہ یا پھر حال ہی میں محرم کے جلوسوں میں شرکت ،یہ سب وہ کرتے رہتے ہیں تاکہ سبھی مذہبی گروہوں کو ریاست اور انتظامیہ میں یقین محکم کیا جاسکے۔
جموںو کشمیر کے سیاست دانوں سے ملاقاتوں وغیرہ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوا ل کے جواب میں شری منوج سنہا کا کہنا تھا کہ ا ن کے دروازے ہر شہری کےلئے کھلے ہیں ہاں یہ بات واضح ہے کہ کسی کو کوئی اسپیشل ٹریٹ منٹ نہیں دی جائے گی۔
سرکاری زمینوں پر سے تجاوزات ہٹانے کے عمل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب سنہا کا کہناتھا کہ ان پر اس کو روکنے کا کوئی دبائو نہیں ہے۔ انتظامیہ نے سینکڑوں کنال زمینیں خالی کرالی ہیں اور ان کو استعمال میں لانے کے بارے میں پروگرام مرتب کئے گئے ہیں ۔ہم اس مہم میں بچے ہوئے بڑے زمین خوروں سے زمینیں خالی کرانے کا کام دوبارہ سردست لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سرکار کا واضح موقف یہ ہے کہ سرکاری زمینوں پر سرکار یا غریب عوام کا ہی حق ہونا چاہئے۔ بے گھروں کو وزیراعظم آواس یوجنا کے تحت گھر دینے اور بے زمینوں کو پانچ مرلہ زمین دینے کے معاملے پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایل جی کا کہنا تھا کہ یہ گھر 2011 ء کی مردم شماری کے تحت تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ 2011 ء میں باہر کے باشندوں کو جموں وکشمیر میں لاکر بسانے اور یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ یہ جھوٹا پروپیگنڈا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو دن میں خواب دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنی آنکھیں درست کرلینی چاہیں ۔انہوں نے واضح کیا کہ ہماچل، اترا کھنڈ وغیرہ جیسی ہمالیائی ریاستوں کی مانند جموں وکشمیر بھی ایک ہمالیائی علاقہ ہے اور یہاں کے لینڈ لاز کے مطابق کسی بھی باہر والے کو یہاں کی زمین کا ایک انچ بھی نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ البتہ انڈسٹریز لگانے کےلئے زمینیں لیز کی جائیں گی اور لیز کی گئیں ہیں۔ یہ جموں کشمیر کی اقتصادیات کےلئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں نئےپرائیویٹ مڈیکل کالج ،پرائیوٹ ہسپتال، ایمار گروپ کا وسیع و عریض شاپنگ مالبنے گا۔ اپالو گروپ والے ،برلا جی ،جے ایس ڈبلیو نامی کمپنی وغیرہ جلد یہاں سے پیداوار شروع کردیں گے جس سے یہاں کی اکانومی بہتر ہوجائے گی۔ انہوں نے مذید کہا کہ پنڈتوں کی بازآبادکاری کےلئے بھی ان کی انتظامیہ نے بڑے اقدامات کئے ہیں۔ ہم نے ان کےلئے کشمیر میں سینکڑوں گھر تعمیر کئے ہیں۔ پرائم منسٹر اسکیم کے تحت نوکری کرنے والے لوگوں کو محفوظ رکھنے کےلئے ان کو محفوظ علاقوں میں تعینات کیا ہے۔ ان کی چھینی گئی پراپرٹی کو واپس دلانے کےلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ پرائم منسٹر پیکج کے تحت لگائے گئے ملازمین کو ترقی دی ہے اور دوسرے کئی بڑے اقدامات اٹھاکر ان کی باز آباد کاری کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’’ وزیراعظم نریند مودی کا ماننا ہے کہ امن خریدا نہیں کاسکتا بلکہ اس کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اسی اسکیم کے تحت ہم حریت یا کسی ایسی دوسری جماعت یا گروہ کوکوئی رعایت دینے کے روادار نہیں ہیں۔ حریت اور جماعت(اسلامی) نے یہاں آتنک واد اور علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ ہماری نیتی اور نیت واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم آتنک واد کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں۔ ہم ہر ضلع اور ہر تھانہ کو آتنک واد سے مبرادیکھنا چاہتے ہیں اور اس کےلئے کوشاں ہیں۔ہم کسی بھی طاقت کو یہاں کی فضا کو مکدر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہماری نظریں ایسے افراد پر جمی ہوئی ہیں اور انہیں پنپنے نہیں دیں گے۔‘‘
اخبارات ،میڈیا اور انفارمیشن پر مبینہ پابندیوں کے ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں منوج سنہا کا کہنا تھا کہ آزاد میڈیا پر کریک ڈائون کا کوئی سوال نہیں ہے۔ لیکن فری میڈیا کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس کی آڑ میں ٹیرر فنڈنگ،ٹیرر ایکو سسٹم کو فروغ دیا جائے۔ بھارت کی ایکتا پر وار کیا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جو صحافی حراست میں ہیں کیا وہ ان کارروایئوں میں ملوث ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ جی ہاں جو بھی پکڑا گیا ہے وہ صحافت کی آڑ میں ان منفی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک ہی موقف ہے کہ کسی بے گناہ کو چھیڑو مت اور کسی گناہ گار کو چھوڑو مت ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ سخت گیر نہیں ہیں نا ہی انہوں نے اپنے اگرد گرد سخت گیر افسروں کا جمع کیا ہوا ہے ۔وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ راحت پہنچانے کے اپنے وعدے اور فرض پر کابند ہیں اور کاربند رہیں گے۔








