امت نیوز ڈیسک //
جموں، 30 دسمبر :ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) آر آر سوین نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر پولیس صرف بندوق چلانے والے ملی ٹینٹوں کے خلاف ہی نہیں لڑ رہی تھی بلکہ تقریباً 8000 جعلی سوشل میڈیا ہینڈلرز کے ذریعہ پھیلائی گئی جھوٹی داستان کو بھی پھیلایا جا رہا ہے جس کا مقصد حالات خراب کرنا اور ملی ٹینسی کو بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ صرف ملی ٹینٹوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس بیانیے کے خلاف ہے جسے 8000 جعلی سوشل میڈیا ہینڈلز – فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کے ہینڈلر بیٹھے ہیں اور ان کا مقصد ہوا دینا اور ملی ٹینسی کو بڑھانا ہے۔ وہ غلط معلومات پھیلاتے ہیں۔ ہم حقیقی اور غیر حقیقی میں فرق کرنے کے بعد قانون کے دائرے میں ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔
پولیس سربراہ نے کہا کہ "ہم ان کے خلاف آئی ٹی ایکٹ 61 کے تحت کارروائی کریں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم ان کو انٹرپول کے ذریعے پکڑیں گے۔” ترکی، کینڈا، پیرس میں نارکو ملی ٹنسی کے روابط پائے گئے۔
ڈی جی پی سوین نے کہا کہ پولیس سائبر کرائم کے بارے میں ذہن نشین کر رہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ جرم کم رپورٹ ہو رہا ہے اور اس سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جو پولیس کو اصل میں معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سسٹم کو اپ گریڈ کر رہے ہیں اور سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے،”۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑی رقم کا سراغ لگا کر ان لوگوں کو واپس کر دیا گیا جن کو انٹرنیٹ فراڈ اور ڈیجیٹل ورلڈ فراڈ کے ذریعے دھوکہ دیا گیا تھا۔










