امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی:لمبے انتظار کے بعد سپریم کورٹ نے آج اڈانی-ہنڈنبرگ تنازع پر آخر کار فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس معاملے میں ایس آئی ٹی تشکیل دینے اور تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ ان تمام عرضیوں پر سپریم کورٹ نے آج اپنا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے اڈانی-ہنڈنبرگ معاملے میں ایس آئی ٹی جانچ کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور سیبی سے کہا کہ وہ ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایکسپرٹ کمیٹی کی سفارش پر غور کریں۔
اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے گوتم اڈانی نے لکھا کہ، معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بتاتا ہے کہ، سچائی غالب آگئی۔ ستیہ میو جیتے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ، میں ان لوگوں کا شکر گزار ہوں جو ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔ بھارت کی ترقی کی کہانی میں ہمارا عاجزانہ تعاون جاری رہے گا۔ جئے ہند۔
سپریم کورٹ نے گذشتہ سال نومبر میں اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ عدالت ان درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا جس میں جنوری 2023 میں امریکی شارٹ سیلر ہنڈنبرگ ریسرچ کی ایک رپورٹ میں شائع شدہ اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے خلاف اکاؤنٹنگ فراڈ اور شیئر میں ہیرا پھیری کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا دھننجے وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پارڈیوالا اور منوج مشرا کی بنچ ان اقدامات کا بھی اعلان کیا جو سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کو مارکیٹ کے انتہائی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول میں رکھ کر سرمایہ کاروں کی حفاظت کے لیے اٹھانا چاہیے۔یہ بھی پڑھیں: بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور اڈانی گروپ پر راہل کا وزیر اعظم سے سوالجنوری 2023 میں جاری ہونے والی ہنڈنبرگ رپورٹ میں گوتم اڈانی کے زیرقیادت گروپ کے ذریعہ ‘شیم لیس اکاؤنٹنگ فراڈ’ اور ‘اسٹاک ہیرا پھیری’ کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اگرچہ گروپ نے اس رپورٹ کو ‘بے بنیاد’ اور ‘بد نیتی اور شرارت’ مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، لیکن اس کی وجہ سے اڈانی گروپ کے حصص میں زبردست گراوٹ ہوئی تھی، جس سے چند ہی دنوں میں 140 بلین ڈالر یعنی 20,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا۔










