امت نیوز ڈیسک //
حکومت ہندوستان کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب تبت میں دریائے برہم پترا پر ایک میگا ڈیم بنانے کے چین کے منصوبے کے بارے میں چوکس ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک دفاعی میدان میں خود کفیل ہو رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجی اور اختراعات کا استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے جب ہندوستان بین الاقوامی فورمز پر بولتا تھا تو لوگ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے، لیکن اب جب ہندوستان بولتا ہے تو دنیا سنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان دنوں ہر پہلو سے ترقی کر رہا ہے۔ اس سے قبل معیشت 11ویں نمبر پر تھی ، اب ہندوستانی معیشت پانچویں نمبر پر ہے اور آنے والے ڈھائی سالوں میں وہ ٹاپ تین ممالک میں شامل ہو جائے گی۔سی این آئی کے مطابق آگرہ میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ چین کی جانب سے برہم پترا پر دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کی تعمیر کے اپنے منصوبے کے اعلان کے چند دن بعدہندوستان نے کہا کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے نگرانی اور ضروری اقدامات کرے گا۔نئی دہلی نے بیجنگ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ برہم پترا کے نیچے کی دھارے والی ریاستوں کے مفادات کو بالائی علاقوں میں سرگرمیوں سے نقصان نہ پہنچے۔ڈیم کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر دفاع نے یہاں ایک تقریب کے دوران کہا ”ہندوستانی حکومت چوکس ہے“۔تقریب کے لیے جمع ہونے والوں سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا”پہلے جب ہندوستان بین الاقوامی فورمز پر بولتا تھا تو لوگ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے، لیکن اب جب ہندوستان بولتا ہے تو دنیا سنتی ہے“۔انہوں نے کہا کہ ” ہندوستان ان دنوں ہر پہلو سے ترقی کر رہا ہے۔ اس سے قبل معیشت 11ویں نمبر پر تھی (عالمی سطح پر ممالک میں)۔ اب ہندوستانی معیشت پانچویں نمبر پر ہے اور آنے والے ڈھائی سالوں میں وہ ٹاپ تین ممالک میں شامل ہو جائے گی“۔سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستان دفاعی میدان میں خود کفیل ہو رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجی اور اختراعات کا استعمال کر رہا ہے۔اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وہ طلباءکے مستقبل کو سنواریں اور قوم کی ترقی میں مدد کریں۔سنگھ نے کہا کہ انہیں سیاسی فائدے سے زیادہ طلباءکی زندگی کی فکر ہے۔










