امت نیوز ڈیسک//
جموں، 15 فروری: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ جن ملازمین کو مبینہ طور پر ملی ٹینسی کے تعلق سے برطرف کیا گیا ہے، ان کی بات سنی جائے اور اگر وہ بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے تو مناسب کارروائی کی جائے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک کے قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے تک ہر کوئی بے قصور ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں تین سرکاری ملازمین کی برطرفی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’اگر ان (برطرف کیے گئے ملازمین) کے خلاف ثبوت ہیں اور انہیں اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کا موقع دیا گیا ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے، تو یہ ٹھیک ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بات سنے بغیر فیصلہ کر لیا جائے تو قانون کہتا ہے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے ہر کوئی بے قصور ہے۔
وقف ترمیمی بل کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف ہے اور اس کے پیچھے کوئی اور وجہ نہیں ہے۔(کے این او )











