امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 3 فروری : جموں و کشمیر کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو نے منگل کے روز کہا کہ مرکز کے زیر انتظام خطے میں جمہوری اختیارات میں مسلسل کمی نے طرزِ حکمرانی اور نوجوانوں کے مستقبل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل ریاستی درجہ اور خصوصی حیثیت کی بحالی نہایت ضروری ہے۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت کے قیام کے پہلے دن سے ہی ریاستی درجہ اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ ہر مناسب فورم پر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوام کا حقیقی مطالبہ ہے، اسی لیے پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے احتجاج کیا۔
سکینہ ایتو نے کہا کہ اس وقت منتخب نمائندے محدود اختیارات کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں کو ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کی کمی کی وجہ سے نوجوانوں کے حقوق اور مستقبل کے مواقع کمزور پڑ گئے ہیں۔
پیر پنجال اور چناب ویلی کے لیے الگ ڈویژن کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے کہا کہ ایسے دعوے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی طرف سے اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں ہے اور نیشنل کانفرنس ہمیشہ متحد جموں و کشمیر کی حامی رہی ہے۔
لداخ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ پارٹی کا نظریہ یہ ہے کہ لداخ کو بھی دوبارہ شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نیشنل کانفرنس ایک مکمل جموں–کشمیر–لداخ ریاست کی بحالی کی خواہاں ہے، جیسا کہ پہلے موجود تھی۔
بی جے پی کی جانب سے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی قائم کرنے کے مطالبے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے تعلیمی اداروں کو علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو کبھی بھی علاقائی سیاست کا شکار نہیں بنانا چاہیے، ماضی میں طبی کالجوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہی صورتحال قانون یونیورسٹی کے ساتھ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر نے ہمیشہ جموں کے طلبہ کا خیرمقدم کیا ہے اور آج بھی ہزاروں طلبہ جموں سے آ کر کشمیر میں ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور دیگر جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کشمیر نے کبھی اعتراض نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گا۔
آخر میں سکینہ ایتو نے نیشنل کانفرنس کی نظریاتی بنیاد کو دہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی سیاست اتحاد اور بقائے باہمی پر مبنی ہے اور شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ کا ہندو، مسلم، سکھ اتحاد کا پیغام آج بھی ان کی رہنمائی کرتا ہے۔





