امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات کی اور ریاستہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کو کشیدگی کم کرنے اور "غلط حساب کتاب” سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات کی۔ اس سلسلے میں روبیو سے بات کرنے کے بعد جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کا نقطہ نظر ہمیشہ متوازن اور ذمہ دار رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ روبیو اور جے شنکر کے درمیان فون پر بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب ہندوستان اور پاکستان کی فوجیں ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ سنگین ہو چکا ہے۔
اس کے بارے میں ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے کہ ان کی آج صبح امریکی وزیر خارجہ روبیو سے بات چیت ہوئی۔ وزن کا نقطہ نظر ہمیشہ متوازن اور ذمہ دار رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روبیو کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دونوں فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے اور غلط فہمی سے بچنے کے لیے براہ راست بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا تھا کہ مستقبل میں تنازعات سے بچنے کے لیے بامعنی بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے تعاون فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
امریکی خارجہ سیکرٹری کی پاکستان کے آرمی چیف سے بات چیت، ثالثی کی پیشکش
امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ سنیچر کو امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے دہلی اسلام آباد کے بیچ جاری کشیدگی کے بیچ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے فون پر بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے کیے ثالثی کی پیشکش کی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس نے ایک بیان جاری کر کے بتایا کہ امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے جنرل عاصم منیر سے اس بات پر زور دیا کہ ’فریقین کشیدگی کم کرنے کے طریقے تلاش کریں۔ مارکو روبیونے مستقبل میں مزید تنازع سے بچنے کے لیے ’بات چیت کا آغاز کرنے کے لیے امریکی ثالثی کی پیشکش بھی کی۔









