امت نیوز ڈیسک //
پلوامہ : ممبر پارلیمنٹ اور سینئر نیشنل کانفرنس (این سی) لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی نے جموں کشمیر لیفٹینٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے برطرف کیے گئے تین سرکاری ملازمین پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’حکومت سے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ آخر ان ملازمین کو کن وجوہات کی بنا پر نوکریوں سے برطرف کیا گیا؟‘‘
روح اللہ مہدی نے ان باتوں کا اظہار جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے دورے کے دوران میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ قبل ازیں ایم پی نے ضلع ترقیاتی کونسل کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے حاشیہ پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا: ’’نوکری سے برطرف کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟‘‘ یونین ٹیریٹری میں ڈیول پاور سسٹم کی تنقید کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا: ’’یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ یہاں جموں کشمیر میں فیصلہ سازی، نوکریوں کی تعیناتی یا برطرفی کا اختیار کس کے پاس ہے۔‘‘
گزشتہ روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت والی انتظامیہ نے گزشتہ روز تین مزید سرکاری ملازمین کو ’’دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات اور اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث‘‘ ہونے کے الزام میں نوکری سے بر طرف کر دیا۔ نوکریوں سے برطرفی دفعہ 311 (2)(c) کے تحت انجام دی گئی اور اس دفعہ کے تحت ملازمین کو بغیر کسی انکوائری کے نوکری سے برخواست کیا جا سکتا ہے۔ برطرف کیے جانے والے ملازمین میں کانسٹیبل ملک اشفاق نصیر،ٹیچر اعجاز احمد اور سرینگر گورنمنٹ میڈیکل کالج میں جونیئر اسسٹنٹ وسیم احمد خان شامل ہیں۔
آغا سید روح اللہ مہدی نے جموں کشمیر کی منتخب حکومت کو یہاں کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے پر توجہ دینے کی بھی تلقین کی۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے اراکین اسمبلیز (ایم ایل اے) کو سی ڈی ایف جاری کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔











