امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 2 فروری : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس مرکزِ انتظامیہ کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے واضح روڈ میپ طے کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفاف اور شمولیتی طرزِ حکمرانی کے ذریعے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
بجٹ اجلاس کے آغاز پر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کئی برسوں بعد منتخب حکومت کی تشکیل جموں و کشمیر کے جمہوری سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد مضبوط ہوا ہے اور عوامی شراکت پر مبنی طرزِ حکمرانی بحال ہوئی ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ نے عوامی اعتماد کی بحالی، تمام خطّوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے اور پالیسی سازی کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شفافیت، جوابدہی اور ڈیجیٹل گورننس حکومت کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنی ہوئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ 1,500 سے زائد سرکاری خدمات کو آن لائن کیا جا چکا ہے، جس سے شہریوں کو سرکاری سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکایت ازالہ پلیٹ فارم ’جے کے سمادھان‘ کے ذریعے مقررہ مدت میں ہزاروں شکایات کا حل نکالا گیا ہے، جس سے حکومت عوام کے مزید قریب آئی ہے۔
اقتصادی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر تیزی سے ترقی کرنے والی یونین ٹیریٹریز میں شامل ہے، جہاں سالانہ ترقی کی شرح تقریباً 11 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے جی ایس ٹی وصولیوں میں اضافہ، بہتر مالی نظم و ضبط اور سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافے کو معاشی استحکام کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو اقتصادی نمو کا اہم محرک بنایا گیا ہے، جس کے تحت سڑکوں، سرنگوں، ریلویز، ہوائی اڈوں اور بجلی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ رابطہ کاری بہتر بنائی جا سکے اور علاقائی ترقی کو فروغ ملے۔
بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور خاص طور پر سردیوں کے دوران بلا رکاوٹ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ میٹرنگ اور سرکاری عمارتوں و گھروں کی سولرائزیشن جیسے اقدامات نقصانات کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
سیاحت، زراعت، صحت، تعلیم اور صنعت کو ترجیحی شعبے قرار دیتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ سیاحت کو صنعت کا درجہ دیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایمس، نئے میڈیکل کالجوں کے قیام اور ڈیجیٹل ہیلتھ خدمات کی توسیع سے طبی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سماجی بہبود، خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کی انٹرپرینیورشپ اور قبائلی فلاح و بہبود پر حکومت کی توجہ کو دہراتے ہوئے منوج سنہا نے اسمبلی اراکین سے اپیل کی کہ وہ ایک پُرامن اور خوشحال جموں و کشمیر کی تعمیر کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں، جہاں ہر شہری کو وقار اور مواقع میسر ہوں۔(کے این ایس)






