امت نیوز ڈیسک //
شوپیاں : جموں و کشمیر میں گزشتہ ہفتوں کے دوران وقفے وقفے سے ہوئی موسلا دھار بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں جہاں لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہیں وہیں وادی کشمیر کو بیرون دنیا سے جوڑنے والی اہم شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند ہیں۔
بارشوں کے نتیجے میں جہاں متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہیں وادی کا زمینی رابطہ بیرون دنیا سے منقطع ہو چکا ہے۔ سرینگر – جموں قومی شاہراہ کئی روز سے بند ہے جبکہ تاریخی مغل روڈ پر بھی مٹی کے تودے گر آنے کی وجہ سے بند عارضی طور بند تھی تاہم جمعرات دوپہر کو ہنگامی بنیادوں پر مغل روڑ کو قابل آمد و رفت بنا دیا گیا ہے۔
ان سڑکوں اور شاہراہوں کی بندش نے جہاں عام لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں وادی کے میوہ کاشتکاروں اور تاجروں کو بھی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ سیب اور ناشپاتی جیسے میوہ جات سے بھری گاڑیاں، جو مختلف ریاستوں کی منڈیوں کی جانب روانہ کی گئی تھیں، کئی روز سے درماند ہیں اور شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے اب یہ گاڑیاں واپس واپس کشمیر کی مقامی منڈیوں میں لوٹ رہیں ہیں، نتیجتاً لاکھوں روپے مالیت کے پھل راستے میں خراب ہو گئے اور کاشتکاروں کے چہروں پر مایوسی چھا گئی۔
جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے کاشتکاروں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف میوہ جات خراب ہو گئے ہیں بلکہ ایک ہفتے کے اضافی اخراجات کا بوجھ بھی انہیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر حکومت فوری طور پر قومی شاہراہ اور مغل روڈ کو بحال نہیں کرے گی تو میوہ صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔‘‘
کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میوہ جات سے بھری گاڑیوں کو سرفہرست رکھا جائے اور انہیں شاہراہ پر جلد از جلد دیگر ریاستوں کی منڈیوں تک پہنچنے کی اجازت دی جائے تاکہ کاشتکاروں کی محنت رائیگاں نہ ہوں۔ کاشتکاروں نے یہ بھی شکایت کی کہ ’’جب مغل روڈ کھلا بھی تھا تو حکومت نے صرف چھ ٹائر والی چھوٹی گاڑیوں کو ہی اجازت دی، جبکہ بڑی گاڑیوں کو اس روٹ پر سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے اس متبادل راستے سے بھی کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر میں مسلسل بارشوں نے سرینگر جموں قومی شاہراہ سمیت دیگر اہم سڑکوں کو بھی متاثر کیا ہے اور زرعی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ کاشتکاروں نے زور دے کر کہا ہے کہ ’’حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ ان کی فصل بروقت ملک کی دیگر ریاستوں تک پہنچ سکے۔‘‘










