بیٹیاں خدا کے دل سے ٹپکا ہوا وہ نور ہیں، جو دنیا کے اندھیروں میں امید بن کر اترتا ہے۔ ان کے لمس میں دعا کی خوشبو ہے، ان کی مسکراہٹ میں جنت کی روشنی۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہی نور ہم نے دیواروں کے پیچھے قید کر دیا۔ بیٹی جو ماں کی دعا، باپ کا فخر، اور گھر کا سکون ہوتی ہے۔ اُس کے پر ہم نے اپنی روایات کے بوجھ تلے توڑ دیے۔ کیا ہم بھول گئے کہ بیٹی کو قید کر کے ہم اپنے ہی آسمان کو تنگ کر لیتے ہیں؟ اُس کے خواب دبانے والے دراصل اپنی نسلوں کی صبحیں بجھا دیتے ہیں۔
بیٹی کے اندر ایک سمندر ہے‘ احساس کا، قربانی کا، اور حوصلے کا۔ وہ خاموش رہ کر بھی بولتی ہے، روتے ہوئے بھی مسکراتی ہے، اور بکھر کر بھی سب کو جوڑتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، کائنات چھپی ہے۔ وہ اگر پڑھے تو لفظ زندہ ہو جاتے ہیں، اگر چلے تو زمین مہک اٹھتی ہے، اگر ہنس دے تو کائنات کو رنگ مل جاتے ہیں۔ ایسی بیٹیوں کو قید میں مت رکھو، ان کے خوف کو امید میں بدل دو، ان کے خوابوں کو راستہ دو۔ کیونکہ جب ایک بیٹی اپنے دل کے آسمان میں اُڑتی ہے، تو خدا خود اُس کے ساتھ پرواز کرتا ہے۔
بیٹی کے دل کو سمجھنا، کائنات کے راز کو جاننے جیسا ہے۔ اُس کی دعا رد نہیں ہوتی، اُس کی آنکھوں سے بہا ہر آنسو عرش کو ہلا دیتا ہے۔ اُسے کمزور سمجھنا سب سے بڑی نادانی ہے، وہی کمزور سمجھی جانے والی ہستی جب مضبوط ہوتی ہے تو قومیں بدل دیتی ہے۔ اسے تعلیم دو، حوصلہ دو، خودی کا شعور دو۔ قید نہیں، قوت بناؤ ،تاکہ آنے والا وقت گواہی دے کہ تم نے اپنی بیٹی کو روکا نہیں، بلکہ اُسے پر دیے تھے۔ کیونکہ جو بیٹیاں اُڑتی ہیں، وہ زمین پر نہیں گرتیں ،وہ تاریخ میں لکھی جاتی ہیں۔
جب ہم نے بیٹیوں کی قیمت پہچانی، تب ہی گھر سے باہر کی دنیا بھی روشن ہوئی گی۔ چھوٹی امیدوں کو پروان چڑھانے سے ہی بڑے انقلاب جنم لیتے ہیں، نصاب میں جگہ دو، کام کی جگہوں پر احترام دو، اور ہر محفل میں اس کی آواز سنو۔ بیٹی کی صلاحیتوں کو چھپانے والے بہانے ختم کرو؛ اس کی حفاظت اور آزادی کو ایک دوسرے کے متضاد نہ سمجھو بلکہ دونوں کو ساتھ چلو۔ جب خاندان، اساتذہ اور معاشرہ مل کر اُس کی پشت پناہی کریں گے تو خوف پیچھے رہ جائے گا اور ہمت ایک روزمرہ کی شان بن جائے گی۔
یاد رکھو: بیٹی کو قید کرنا اپنے مستقبل کو کمزور کرنا ہے، اور اسے اُڑان دینا اپنے کل کو مضبوط کرنا۔ آج جو پر تم نے دیے، وہ کل تاریخ کے صفحات میں روشنی کی صورت میں ملیں گے۔ اس لیے قید نہیں، قوت بناؤ، بیٹیوں کو اُڑان دو، تاکہ وہ نہ صرف اپنے خواب پورے کریں بلکہ قوموں کے خواب بھی حقیقت بنائیں۔







